خیالات کی طلسمی قوت سے فائدہ اُٹھائیے!
تحریر: ظفر اقبال ظفر
ہمارے خیالات و تصورات ہماری شخصیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ اگر کسی بھی شخص کے خیالات معلوم ہو جائیں تو علم ہو جاتا ہے کہ وہ کیسا انسان ہے۔ ہمارا ذہنی رجحان ہی ہماری قسمت کا تعین کرتا ہے، یعنی ایک انسان وہی کچھ ہے جو وہ دن بھر سوچتا ہے۔ ہماری زندگی ہمارے خیالات سے بنتی ہے۔
ہمارے سامنے سب سے اہم واحد مسئلہ مفید خیالات کا انتخاب ہے۔ اگر اس میں کامیاب ہو جائیں تو ہم سارے مسائل نہایت آسانی اور خوبی کے ساتھ نبٹا سکتے ہیں۔ صحت مند خیالات خوشی اور مسرت کے ہیں جو خوشحالی کا احساس دیتے ہیں، اور بیمار خیالات ہمیں بزدل اور ڈرپوک بناتے ہیں۔ یعنی بیمار خیالات ہمیں بیمار بناتے ہیں۔ ناکامی کا سوچنے والا ناکام ہی ہوتا ہے اور کامیابی سوچنے والوں کو جیت نصیب ہوتی ہے۔ ہمارے حالات کو ہمارے خیالات ہی بناتے ہیں۔ آپ وہ نہیں جو آپ سمجھتے ہیں، آپ وہ ہیں جو آپ سوچتے ہیں۔
آپ ہر روز صبح نہا کر اچھے کپڑے پہنیں، خوشبو لگائیں اور اپنی گردن بلند رکھتے ہوئے خود اعتمادی کے ساتھ حالات کے راستوں سے گزریں۔ اپنے خیالات مثبت و رجائی رکھتے ہوئے شکست سے شکست کھانے سے انکار کر دیں۔
ہمارا ذہنی رویہ ہماری جسمانی قوتوں پر ناقابل یقین حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔ آپ کی جسمانی قوت پر آپ کی ذہنی قوت کے ہی اثرات ہوتے ہیں۔ اپنے ذہنی خیالات کو معیاری رکھنا جسمانی صحت کو معیاری رکھنے کے لیے انتہائی لازم ہے۔ جیسے جیسے ہماری شعوری عمر بڑھتی جائے گی، خیال کی عظیم طاقت پر یقین پختہ ہوتا چلا جائے گا۔
مگر میں بالغ ذہنوں کے لیے ابھی سے وضاحت کیے دوں کہ خیالات میں تبدیلی پیدا کرکے پریشانی و خوف سمیت تمام ذہنی و جسمانی امراض سے نجات حاصل کرکے زندگی کی کایا پلٹی جا سکتی ہے۔ ہر علت کا مقام دماغ ہے اور ہر اثر ایک دماغی مظہر ہے۔
اگر آپ دماغی و اعصابی کشمکش کا شکار نہیں ہوئے تو اس بلا سے بچے رہنے کا صدقہ دیتے رہیں۔ خدا آپ کو اس لعنت سے محفوظ ہی رکھے کیونکہ روحانی کرب سے بڑھ کر جسم کا کوئی درد اتنا شدید نہیں ہوتا۔ میں اعصابی کشمکش کے حالات میں بے بسی کی آخری حد تک جکڑ چکا تھا۔ اپنے اہل خانہ تک بولنے کی سکت نہ بچی اور خیالات پر قابو میری قوت گرفت سے باہر ہو چکا تھا۔ خوف کا غلبہ عالم تنہائی میں لے گیا۔ دن اور رات انتہائی تکلیف و کرب میں گزرتے۔ روئے زمین پر کوئی جسمانی و روحانی معالج نہیں جو میری تکلیف کو سمجھ کر اس کا علاج کر سکے۔
خدائی مدد کی محرومی نے اور وسوسوں میں مبتلا کر دیا اور گمان ہونے لگا کہ زندگی کی تکلیف نہیں تو زندگی ہی ختم ہو جانی چاہیے۔ اصل میں میرا علاج تو میرے ہی اندر چھپا بیٹھا تھا۔ ساری خرابی کی جڑ میں خود تھا۔ میرے جسم و دماغ میں کوئی نقص نہیں تھا۔ جن خیالات کا مجھ پر دردناک غلبہ طاری تھا، انہوں نے مجھے تب شکست دی جب میں نے خود ان سے ہار جانے کو تسلیم کر لیا تھا۔
انسان اپنی غلط سوچوں پر یقین کر بیٹھے تو زندگی کتنی تکلیف دہ ہو جاتی ہے، اس کا احساس مجھے ہو چکا تھا۔ اصل میں میں جو سوچ رہا تھا وہ میرے ساتھ ہو رہا تھا۔ مجھے برا ہونے کو برا سوچنے کے عمل کو چھوڑ کر بدلنا تھا۔ اس کے لیے ضروری ہے ہم ذہن کا سارا گردوغبار دھو ڈالیں جو دماغ اور جسم پر غیر ضروری بوجھ ڈال کر تکلیف کا نتیجہ دے رہا ہے۔
خدا کی جانب سے ہر انسان کو زندگی بڑی حسین، خوشگوار ملتی ہے۔ جب بھی بے چینی اور بے اطمینانی کے اثرات ذہن کی زمین پر رینگنے کی کوشش کریں تو اپنی زندگی کی صحیح قدروں کی قدر کرتے ہوئے اپنی سوچوں کے کیمرے کا فوکس بدل ڈالیے۔ منظر بدلے گا تو ہر چیز درست ہو جائے گی۔
خیالات کا جسم و ذہن پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ مضر خیالات کو مفید بنانے کا فن سکونِ حیات بنتا ہے۔ سارے مصائب کے ذمہ دار خارجی حالات نہیں ہیں بلکہ ان حالات کے متعلق ہمارے خیالات ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کیجیے، ان پر کنٹرول پائیں اور درست کام لے کر ذہنی صحت سے ہمکنار رہیے۔
زندگی سے میسر ہونے والا ہمارا ذہنی سکون و آرام اس بات پر موقوف نہیں کہ ہم کون ہیں، کہاں ہیں، بلکہ اس کا انحصار سراسر ہمارے ذہنی رویے پر مبنی ہوتا ہے جو ہم اس کے متعلق اختیار کرتے ہیں، اور اس میں خارجی حالات و واقعات کا بہت کم تعلق ہوتا ہے۔
سزائے موت کے مجرم بھی اگر سکون، خوشی، ہمت کے تخلیقی خیالات اپنالیں تو تختہ دار کی جانب جاتے ہوئے اپنے کفن پر بیٹھ کر قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یعنی مرتے ہوئے بھی اپنے سینوں کو خوشی و مسرت کے نغموں سے بھرپور کر سکتے ہیں۔
بغیر غم و دُکھ کے حالات کا نقصان اُٹھا لینا مگر تلخ خیالات نہ اُٹھانا۔ ذہن خود ہی اپنا مقام بناتا ہے: جنت سے جہنم اور جہنم سے جنت۔
عظمت، طاقت، دولت رکھنے والا ایک خوبصورت جزیرے پر بیٹھا کہتا ہے میری زندگی میں خوشی کے بس چند دن ہی آئے، اور ایک اندھا، گونگا، بہرا شخص کہتا ہے کہ میں نے زندگی کو بہت حسین پایا۔ یہ خیالات کی طلسمی قوت کا دلایا گیا بیان ہے۔
حسن انسانی خیالات میں نہیں تو رنگین نظارے بھی بے معنی ہیں۔ تمہارے خیالات تمہیں کہتے ہیں کہ تمہارے اپنے سوا کوئی بھی تمہیں سکون و خوشی نہیں دے سکتا۔ ہمیں اپنے جسم سے پھوڑے، پھنسیاں، ورم، رسولیاں دور کرنے کی نسبت اپنے ذہن سے غلط خیالات خارج کرنے کی زیادہ فکر و کوشش کرنی چاہیے۔
جب آپ ہجومِ مصائب میں گھرے ہوں، اعصاب تاروں کی طرح جھنجھنا رہے ہوں، ایک ہیجان برپا ہو، تو آپ ایسے حالات میں اپنی قوتِ خودارادی سے اپنا ذہنی رویہ تبدیل کرکے سارا منظر بدل سکتے ہیں۔ ایسا محض ارادہ کرکے فی الفور جذبات کو نہیں بدلا جا سکتا، بلکہ اس سے ہم اپنے افعال میں تغیر پیدا کر سکتے ہیں۔ جب ہمارے افعال بدل جائیں، احساسات میں خود بخود تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔
مختلف کتب و حالات کے مطالعے اور مشاہدے سے ایک "پلاسٹک سرجری” کی ترکیب خود آزما کر دیکھئے: اپنے چہرے پر ایک وسیع دیانتدارانہ مسکراہٹ پیدا کیجئے، اپنے کندھے پیچھے کی طرف سیکڑئیے، خوب گہرا لمبا سانس نکالیے، کسی گیت کو گنگنائیے، کیونکہ جب آپ خود کو خوش کرنے کی حرکتیں کر رہے ہوں تو جسمانی طور پر افسردہ رہنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یقین جانیے یہ عمل جسم میں انقلابی تبدیلی برپا کرتا ہے۔
خیالات کے ذریعے اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش ہی تندرستی کی ضمانت ہے۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر آپ شکست خوردہ اور مردہ خیالات کی زد سے باہر نہ نکلے تو زندگی کے لطف سے محروم ہی رہیں گے۔ قدرتی راستہ اپنائیں، کسی دوائی کی مدد کے بغیر صرف ذہنی رویے کی تبدیلی سے اپنے آپ کو تندرست ہونے کا موقع دیں۔
لوگوں اور چیزوں کے متعلق خیالات بدلنے سے اُن کے رویے میں خودبخود تبدیلی آ جاتی ہے۔ بلند خیالات اُبھار کر کامیابی کی کشتی میں بیٹھ کر ترقی کی منزلیں طے کی جا سکتی ہیں، اور اس سے انکار کرنے والا حقیر، کمزور، ادنیٰ اور شکستہ حال رہے گا۔
وہ دیوتا جو ہماری خواہشوں اور آرزوؤں کو تکمیل دیتا ہے، وہ خود ہم ہی ہیں۔ انسان جو کچھ حاصل کرتا ہے، وہ اس کے اپنے خیالات کا براہ راست نتیجہ ہے۔
