آبنائے ہرمز: ایران کی بڑی پیش رفت، 20 پاکستانی جہازوں کو گزرنے کی اجازت

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) ایران نے خطے میں کشیدگی کے باوجود ایک اہم اور مثبت پیش رفت کرتے ہوئے پاکستانی پرچم تلے مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جسے پاکستان نے سفارتی کامیابی اور اعتماد سازی کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 28 مارچ 2026 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا:

“I am pleased to share a great news that the Government of Iran has agreed to allow 20 more ships under the Pakistani flag to pass through the Strait of Hormuz; two ships will cross the Strait daily. This is a welcome and constructive gesture by Iran and deserves appreciation. It is a meaningful step toward peace… Dialogue, diplomacy and such confidence-building measures are the only way forward.”

اسحاق ڈار کے مطابق اس معاہدے کے تحت روزانہ دو پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز عبور کریں گے، جو پاکستان کے لیے نہ صرف تجارتی بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو امن کی جانب بامعنی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات، سفارتکاری اور اعتماد سازی ہی مسائل کا واحد حل ہیں۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں امریکی نائب صدر، امریکی وزیر خارجہ، امریکی نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھی ٹیگ کیا، تاکہ اس مثبت پیش رفت کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہو رہی تھی۔ آبنائے ہرمز کو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی کو متاثر کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایران کی جانب سے دو پاکستانی جہازوں، جن میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا جہاز "ملتان” اور ایک چارٹرڈ جہاز شامل تھا، کو خصوصی اجازت دی گئی تھی، جو خلیج فارس میں ایک ماہ سے زائد عرصے تک پھنسے رہے اور بعد ازاں بحفاظت روانہ ہوئے۔

ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو بھی شامل ہے، جس میں خطے کی کشیدگی کم کرنے اور تجارتی روابط کو بحال رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کی توانائی درآمد، بالخصوص خام تیل کی فراہمی، اور تجارتی جہاز رانی میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ شپنگ اخراجات میں کمی اور سپلائی چین کی روانی بھی ممکن ہوگی۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث بحری راستے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، لہٰذا ایران کی جانب سے پاکستانی جہازوں کو اجازت دینا اعتماد سازی اور علاقائی استحکام کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے