سرگودھا (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار ملک شاہنوازجالپ) نواحی علاقے چک آسیاں والا میں ایک معذور شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ بااثر قبضہ گروپ نے پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے اس کی کروڑوں روپے مالیت کی زرعی زمین پر قبضہ کرلیا، جبکہ انصاف کے حصول کے لیے دی گئی درخواستوں پر تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوسکی۔
متاثرہ شہری اللہ یار نے ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو دی گئی درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ جسمانی طور پر معذور ہے اور اپنے بھائی کے ساتھ مل کر تقریباً 17 ایکڑ وراثتی زرعی زمین کا مالک ہے۔ دونوں بھائی بے اولاد ہیں اور ان کی بیویاں بھی وفات پا چکی ہیں، جس کے باعث وہ خود کو مزید غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

درخواست کے مطابق ان کے ہی گاؤں کے رہائشی دو سگے بھائی، طاہر ظہور اور عامر ظہور، اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ زبردستی زمین پر قبضے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ ملزمان نے پہلے بھی ایک مبینہ افغانی باشندے اطہر خان کے ساتھ مل کر انہیں دھمکایا اور اراضی ریکارڈ سینٹر لے جا کر انتقال کے بہانے انگوٹھے لگوا کر تقریباً 30 کنال زمین اپنے نام منتقل کروا لی۔

اللہ یار کے مطابق ملزمان اب ان کی مکمل 17 ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے کے درپے ہیں اور اس مقصد کے لیے طاقت اور اثر و رسوخ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تھانہ عطاء شہید کے ایس ایچ او انسپکٹر اقبال گوندل بھی ملزمان کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور کسی بھی قسم کی مزاحمت یا آواز اٹھانے پر انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
متاثرہ شہری نے مزید بتایا کہ ان کی زمین پر کاشت کاری کرنے والے ٹھیکیدار اعظم کھرل کو بھی مبینہ طور پر پولیس کے ذریعے زبردستی بے دخل کروایا گیا، جبکہ اس کی تیار فصل، گندم اور چارہ بھی ملزمان اپنے قبضے میں لے گئے۔

درخواست میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ نامزد ملزمان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس پر ماضی میں سنگین جرائم، بشمول ایک پولیس مقابلے میں سابق ایس ایچ او اور ایک کانسٹیبل کے قتل کے الزامات عائد ہو چکے ہیں، اور بعد ازاں اسی کانسٹیبل کے نام پر تھانے کا نام رکھا گیا تھا۔

دوسری جانب جب ملزمان سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مذکورہ زمین دو کروڑ روپے میں خریدی ہے، تاہم وہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے۔ متاثرہ فریق کا کہنا ہے کہ اگر واقعی اتنی بڑی رقم ادا کی گئی ہوتی تو ان کا بجلی کا میٹر معمولی بقایاجات پر منقطع نہ ہوتا، جو اس دعوے پر سوالیہ نشان ہے۔

متاثرہ شہری نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور چیف جسٹس آف پاکستان سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں فوری انصاف فراہم کیا جائے اور ان کی زمین واگزار کرائی جائے۔
