خطے میں کشیدگی: ایران نے 78 ویں میزائل لہر شروع کر دی، عالمی منڈی میں تیل مہنگا

تہران/واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے تحت متعدد فوجی اور حساس اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسری جانب اس کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق "آپریشن وعدہ صادق 4” کے تحت 78ویں میزائل لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے دوران اسرائیل کے مختلف علاقوں اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایلات، دیمونا اور شمالی تل ابیب سمیت مختلف مقامات پر ملٹی وارہیڈ میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے۔

پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں میں جدید عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے، جبکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ان کی تمام جنگی صلاحیتیں استعمال نہیں کی گئیں اور ضرورت پڑنے پر مزید فورسز کو بھی میدان میں اتارا جا سکتا ہے۔

ادھر ایرانی فوج کی جانب سے سخت پیغام دیتے ہوئے امریکی صدر Donald Trump کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ بیانات سے ہٹ کر زمینی حقائق پر توجہ دیں۔ ایک ایرانی اہلکار نے کہا کہ آنے والے دنوں میں بڑے نتائج سامنے آئیں گے اور ایران "حیران کن جواب” دینے کی پوزیشن میں ہے۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان نے طنزیہ انداز میں ٹرمپ کے معروف جملے کو دہراتے ہوئے کہا کہ "آپ فارغ ہیں”، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم بیان قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایک اماراتی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں روزانہ تقریباً 2 ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے، جبکہ ابتدائی 6 دنوں میں یہ اخراجات 11.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے مزید 200 ارب ڈالر کی منظوری کے لیے امریکی کانگریس سے رجوع کیا ہے، تاہم اس منظوری میں رکاوٹوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ادھر عالمی منڈی میں بھی اس صورتحال کے اثرات واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برطانوی خام تیل کی قیمت بڑھ کر 103 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے جبکہ امریکی خام تیل 91 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ بن رہی ہے بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً توانائی کی منڈی کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے