ایران جنگ مہنگی پڑ گئی، امریکی فضائیہ کے 16 طیارے ناکارہ

واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی خبر رساں ادارے Bloomberg نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں اب تک امریکا کے کم از کم 16 فوجی طیارے تباہ یا شدید متاثر ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان نقصانات میں 10 ریپر اسٹرائیک ڈرونز شامل ہیں جو دشمن کی فائرنگ سے تباہ ہوئے، جبکہ دیگر کئی طیارے حملوں یا حادثات میں شدید متاثر ہوئے۔

سب سے سنگین نقصانات حادثات کے باعث پیش آئے، جن میں کویت میں “فرینڈلی فائر” کے نتیجے میں امریکی فضائیہ کے 3 F-15 طیارے گر کر تباہ ہو گئے۔ اسی طرح ایک KC-135 ٹینکر طیارہ ایندھن بھرنے کے دوران حادثے کا شکار ہوا جس میں عملے کے تمام 6 افراد ہلاک ہو گئے۔

مزید برآں سعودی عرب میں ایک ایئربیس پر کھڑے 5 KC-135 طیارے ایرانی میزائل حملے میں نقصان کا شکار ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق اب تک ایرانی دفاعی نظام صرف بغیر پائلٹ ریپر ڈرونز کو ہی نشانہ بنانے میں کامیاب رہا ہے، جن میں سے کم از کم 9 فضاء میں تباہ کیے گئے جبکہ ایک ڈرون اردن میں ایک ایئربیس پر بیلسٹک میزائل حملے کا نشانہ بنا۔ مزید 2 ریپر ڈرون حادثات میں ضائع ہوئے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (United States Central Command) کے مطابق ایک جدید F-35 طیارے کو بھی جنگی مشن کے بعد مشرق وسطیٰ کے ایک اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی، تاہم پائلٹ محفوظ رہا اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس انفرا ریڈ گائیڈڈ 358 زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل سسٹم موجود ہے، جو بغیر ریڈار کے کام کرتا ہے اور 25 ہزار فٹ کی بلندی تک اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کے باعث طیاروں کو پیشگی وارننگ نہیں ملتی۔

ماہرین کے مطابق اس جنگ میں امریکی فضائی نقصانات کی بڑی وجہ آپریشنز کی شدت ہے۔ سابق آسٹریلوی فضائیہ کے افسر Peter Layton کے مطابق روزانہ زیادہ تعداد میں فضائی مشنز (sorties) اڑانے کے باعث نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2011 میں لیبیا میں امریکی فوجی مداخلت کے دوران چار ماہ میں صرف 3 طیارے ضائع ہوئے تھے، جبکہ موجودہ جنگ میں نقصان کی رفتار کہیں زیادہ ہے۔

ادھر امریکی حکام کے مطابق ایران کے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر ختم کرنا تاحال ممکن نہیں ہو سکا اور امریکا کو صرف محدود علاقوں میں فضائی برتری حاصل ہے۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں کارروائیوں کے دوران بھی ایرانی فضائی دفاع ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ اس سے قبل یمن میں حوثی جنگجو بھی امریکی ریپر ڈرونز کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز رفتار اور دباؤ والے جنگی آپریشنز میں حادثات غیر معمولی نہیں ہوتے، اور اس طرح کے نقصانات بڑے پیمانے کی جنگوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔

جنگ کے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے باوجود ایران خطے میں مسلسل حملے کر رہا ہے، تاہم امریکی وزیر دفاع کے مطابق حملوں میں تقریباً 90 فیصد کمی آ چکی ہے۔

دوسری جانب اندازوں کے مطابق ایران کے تقریباً 60 فیصد لانچر تباہ کیے جا چکے ہیں، تاہم جنگ کے ابتدائی دنوں کے بعد اس میں نمایاں کمی نہیں آئی۔

یاد رہے کہ ایران نے اپنے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کے جواب میں قطر اور سعودی عرب میں اہم توانائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے