سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/ڈسٹرکٹ رپورٹر حسنین راجہ) ریسکیو 1122 کے ڈرائیور یاسر حفیظ کو آہوں اور سسکیوں کے درمیان سپردِ خاک کر دیا گیا۔ مرحوم کے جنازے میں اہلِ علاقہ، عزیز و اقارب اور ساتھیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جہاں ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔
مرحوم اپنے پیچھے 5 بچوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں، جن میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ بڑا بیٹا عبداللہ 14 سال جبکہ سب سے چھوٹا بیٹا محض ڈیڑھ سال کا ہے۔ لواحقین پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے اور ہر آنکھ اپنے پیارے کے بچھڑنے پر نم دکھائی دی۔
یاسر حفیظ کو آج صبح ان کے ہی محلے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ وہ سحری کے بعد گھر سے یہ کہہ کر نکلے تھے کہ "میں ابھی آتا ہوں”، مگر واپس نہ لوٹ سکے اور سفاکانہ واردات کا نشانہ بن گئے۔
جنازے کے موقع پر موجود افراد مرحوم کی خوش اخلاقی، فرض شناسی اور ملنساری کا ذکر کرتے رہے۔ ہر شخص ان کے لیے دعائے مغفرت کرتا نظر آیا اور ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
اہلِ علاقہ اور لواحقین نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔