گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری):جنوبی سندھ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی مستحق خواتین، سماجی رہنماؤں اور عوامی حلقوں کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن روبینہ خالد سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ پروگرام کے تحت خواتین کو فراہم کی گئی موبائل فون سموں کو فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر فعال کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

مطالبہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں خواتین کو دی گئی سمیں تاحال غیر فعال ہیں، جس کی وجہ سے انہیں امدادی رقوم، تصدیقی پیغامات اور پروگرام سے متعلق اہم معلومات بروقت موصول نہیں ہوتیں۔ اس صورتحال کے باعث خواتین کو بار بار مراکز کے چکر لگانے پڑتے ہیں جس سے نہ صرف رش بڑھ جاتا ہے بلکہ خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

عوامی حلقوں نے کہا کہ حالیہ رحیم یار خان بی آئی ایس پی حادثہ جیسے افسوسناک واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ انتظامی غفلت اور معلومات کی کمی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر خواتین کو بروقت موبائل پیغامات اور کال کے ذریعے اطلاع ملتی رہے تو غیر ضروری ہجوم سے بچا جا سکتا ہے اور خواتین کو بہتر سہولت میسر آ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی سندھ کے دور دراز علاقوں کی خواتین پہلے ہی سفری مشکلات اور معاشی مسائل کا سامنا کر رہی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان کی سہولت کے لیے جدید موبائل نظام کو مکمل طور پر فعال کیا جائے تاکہ وہ گھر بیٹھے پروگرام سے متعلق معلومات حاصل کر سکیں۔

مطالبہ کیا گیا ہے کہ چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کریں کہ تمام غیر فعال سموں کو جلد از جلد ایکٹو کیا جائے تاکہ مستحق خواتین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور آئندہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بھی بچا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے