بی آئی ایس پی: بقا یا عزتِ نفس کی پامالی؟

بینظیر انکم سپورٹ: امداد، عزتوں کی پامالی اور موت کا پروانہ؟
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی

ریاستیں جب اپنے کمزور اور محروم شہریوں کے لیے فلاحی پروگرام بناتی ہیں تو مقصد صرف مالی مدد دینا نہیں ہوتا بلکہ عزتِ نفس کو سہارا دینا بھی ہوتا ہے۔ پاکستان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) بھی اسی فلسفے کے تحت قائم کیا گیا تھا کہ معاشرے کی غریب اور محروم خواتین کو مالی تحفظ فراہم کیا جائے۔ مگر آج ایک دردناک سوال سامنے کھڑا ہے: کیا یہ پروگرام واقعی غربت کے خاتمے کا ذریعہ ہے یا پھر غریب عورتوں کی تذلیل، استحصال اور کبھی کبھی موت کا پروانہ بن چکا ہے؟

حال ہی میں پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے علاقے چک 125 پی میں پیش آنے والا المناک واقعہ پورے نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن گیا۔ امدادی رقم لینے کے لیے جمع ہونے والی خواتین پر عمارت کی چھت گر گئی۔ نتیجہ؟ پانچ سے آٹھ خواتین موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئیں اور درجنوں زخمی ہو گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق تقریباً دو سو سے زائد خواتین ایک کمزور چھت پر جمع تھیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا غریب خواتین کی زندگیاں اتنی بے قیمت ہیں کہ انہیں چند ہزار روپے لینے کے لیے اس طرح کے خطرناک حالات میں دھکیل دیا جائے؟

یہ پہلا واقعہ نہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں سے مسلسل ایسی خبریں سامنے آتی رہی ہیں جن میں خواتین کو گھنٹوں بلکہ دن بھر دھوپ اور بارش میں قطاروں میں کھڑا رکھا جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر انہیں دھکے دیے جاتے ہیں، تو کہیں ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ امداد لینے آئی ہوئی عورتیں اپنے حق کی رقم لینے کے لیے ایسے ماحول میں کھڑی ہوتی ہیں جیسے وہ کسی خیرات کی محتاج ہوں۔

یہ المیہ صرف بدانتظامی تک محدود نہیں۔ اس پروگرام کے گرد کرپشن اور استحصال کی ایک پوری معیشت کھڑی ہو چکی ہے۔ مختلف تحقیقات اور رپورٹس کے مطابق ملک کے کئی اضلاع میں ریٹیلرز اور بعض سرکاری اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے مستحق خواتین کی قسطوں میں غیر قانونی کٹوتیاں کی جاتی ہیں۔ عام طور پر ہر قسط سے ایک ہزار سے پندرہ سو روپے تک کاٹے جاتے ہیں۔ بعض کیسز میں ایک ہی قسط سے گیارہ ہزار روپے تک ہڑپ کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

سندھ کے ضلع بدین میں سامنے آنے والا اسکینڈل اس نظام کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ یہاں مبینہ طور پر ایک ہی ادائیگی سائیکل میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ خواتین سے مجموعی طور پر 44 کروڑ روپے تک کی غیر قانونی کٹوتیوں کا اندازہ لگایا گیا۔ اس کیس میں BISP کے افسران، بینک فرنچائز مالکان اور ریٹیلرز کے درمیان مبینہ ملی بھگت کے شواہد سامنے آئے۔ چھاپوں کے دوران لاکھوں روپے نقد، جعلی تھمب امپریشنز اور متعدد ڈیوائسز برآمد ہوئیں۔

جنوبی پنجاب میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ ڈیرہ غازی خان کے علاقوں میں حالیہ دنوں میں ریٹیلرز کو غیر قانونی کٹوتیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ جھوک اترا کے علاقے میں تو اس سے بھی زیادہ حیران کن انکشاف ہوا کہ مستحق خواتین کو جعلی کرنسی نوٹ دیے جا رہے تھے۔ ایک کیس میں ایک لاکھ تیس ہزار روپے سے زائد کی جعلی رقم کی تصدیق ہوئی جبکہ مقامی ذرائع کے مطابق یہ رقم کئی گنا زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

لیکن مالی کرپشن اس مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔ اس پروگرام کے گرد خواتین کی عزت و وقار سے جڑے سنگین سوالات بھی اٹھتے ہیں۔ متعدد شکایات میں بتایا گیا کہ تصدیق یا ویریفکیشن کے نام پر خواتین کو الگ کمروں میں بلایا جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ اگر انہوں نے “کمیشن” نہ دیا تو اگلی قسط بند کر دی جائے گی۔ کئی متاثرہ خواتین نے زبانی توہین، ہراسانی اور بلیک میلنگ کی شکایات بھی کی ہیں۔

یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس پر ہمارے معاشرے میں کھل کر بات نہیں کی جاتی۔ غربت، خوف اور سماجی دباؤ کے باعث اکثر خواتین خاموش رہتی ہیں۔ مگر اس خاموشی کے پیچھے کتنی کہانیاں دفن ہیں، اس کا اندازہ شاید ہم کبھی نہ لگا سکیں۔ حکومت اور تحقیقاتی اداروں نے بعض کارروائیاں ضرور کی ہیں۔ FIA نے مختلف شہروں میں چھاپے مار کر درجنوں افراد کو گرفتار کیا اور لاکھوں روپے برآمد کیے۔ BISP نے بھی سینکڑوں ڈیوائسز بلاک کرنے اور بعض ایجنٹس کو ہٹانے کا اعلان کیا۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس سارے عمل کا کوئی نتیجہ بھی نکل رہا ہے؟

مارچ 2026 تک دستیاب معلومات کے مطابق ان بڑے کرپشن کیسز میں ابھی تک کسی ملزم کو حتمی سزا نہیں ملی۔ زیادہ تر کیسز تفتیش یا ٹرائل کے مرحلے میں ہیں۔ پاکستان کے عدالتی نظام میں کیس بیک لاگ اتنا زیادہ ہے کہ بعض مقدمات کو فیصلہ ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مجرموں کے دل سے سزا کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے ایک اور بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا ہمارے فلاحی پروگرام واقعی غریبوں کو سہارا دینے کے لیے ہیں یا وہ ایک ایسا نظام بن چکے ہیں جہاں غربت بھی کاروبار بن گئی ہے؟

رحیم یار خان کا سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک علامت ہے۔ یہ اس نظام کی علامت ہے جہاں غریب عورتوں کو چند ہزار روپے لینے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنی پڑتی ہے۔ جہاں امداد لینے والی خواتین قطاروں میں کھڑی ہو کر اپنی عزتِ نفس کی قیمت ادا کرتی ہیں۔ اور جہاں بدعنوان عناصر ان کے حصے کی رقم تک بھی ہڑپ کر لیتے ہیں۔

اگر واقعی ریاست اس پروگرام کو غربت کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ بنانا چاہتی ہے تو چند بنیادی سوالات کے جواب دینا ہوں گے: کیا ادائیگی کے نظام کو مکمل طور پر شفاف اور محفوظ بنایا جا سکتا ہے؟ کیا خواتین کو قطاروں اور ریٹیلر مافیا سے نجات دلانے کے لیے براہِ راست بینک یا ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام متعارف نہیں کرایا جا سکتا؟ اور سب سے اہم سوال—کیا اس نظام میں ملوث کرپٹ عناصر کو واقعی کبھی سزا ملے گی؟

اگر ان سوالات کے جواب نہ ملے تو خدشہ یہی ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام غربت کے خاتمے کا منصوبہ کم اور ایک ایسا نظام زیادہ بن جائے گا جہاں غریب عورتوں کو امداد سے زیادہ ذلت، استحصال اور کبھی کبھی موت نصیب ہوتی ہے۔ رحیم یار خان کی ملبے تلے دب جانے والی خواتین شاید اب کوئی سوال نہیں پوچھ سکتیں، مگر ان کی خاموش لاشیں پورے نظام سے ایک ہی سوال ضرور کر رہی ہیں: کیا ہماری زندگیاں صرف چند ہزار روپے کی قسط سے بھی کم قیمت رکھتی تھیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے