واشنگٹن ( کیو این این ورلڈ) امریکی توانائی تجزیہ کار میتھیو ریڈ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ممکنہ طویل جنگ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو بے قابو کر سکتی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔
میتھیو ریڈ کے مطابق تیل کی قیمت پہلے ہی 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھو رہی ہے، لیکن اگر علاقائی کشیدگی برقرار رہی تو یہ قیمتیں بہت جلد 120 ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر جنگ ہفتوں تک طویل ہوئی اور قیمت 150 ڈالر کے قریب پہنچ گئی تو عالمی معیشت شدید سست روی کا شکار ہو جائے گی اور تیل کی طلب میں اچانک کمی واقع ہو سکتی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو گا۔
تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اگر آج ہی جنگ بندی کا اعلان ہو جائے تب بھی توانائی کی مارکیٹ کو واپس اپنی اصل حالت میں آنے کے لیے ہفتوں بلکہ مہینوں کی ضرورت ہوگی۔ ان کے بقول مارکیٹ میں پایا جانے والا خوف اور سپلائی چین کے مسائل اتنی جلدی ختم نہیں ہوں گے۔
توانائی کے بحران پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گیس کی عالمی منڈی کی صورتحال تیل سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد مائع قدرتی گیس (LNG) کی سپلائی اس وقت خطرے میں ہے، خاص طور پر قطر کی جانب سے پیداوار بند کرنے کی صورت میں اس بڑے خلا کو مختصر وقت میں پُر کرنا ناممکن ہے، جس سے توانائی کا عالمی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔