نیویارک ( کیو این این ورلڈ) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر پیش کی گئی روس کی جنگ بندی کی قرارداد کو امریکہ نے ویٹو کر دیا ہے، جس کے باعث یہ قرارداد منظور نہ ہو سکی۔ سلامتی کونسل میں قرارداد کے حق میں 4 اور مخالفت میں 2 ووٹ آئے جبکہ 9 ارکان غیر حاضر رہے۔ دوسری جانب کونسل نے ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک پر حملوں کے خلاف خلیجی ریاستوں کی تیار کردہ قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی ہے۔
خلیجی ممالک کے مسودے کے حق میں 13 ووٹ آئے جبکہ چین اور روس اس عمل سے غیر حاضر رہے۔ منظور شدہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایران کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ اس موقع پر روسی مندوب نے قرارداد کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے صورتحال خراب ہوئی ہے، شہری آبادی پر حملے کسی صورت قبول نہیں۔ چینی مندوب نے بھی طاقت کے استعمال کو مسائل کا حل قرار دیتے ہوئے سویلین آبادی پر حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان نے اقوام متحدہ میں بحرین اور روس دونوں کی جانب سے پیش کردہ قراردادوں کی بھرپور حمایت کی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے، تاہم یو اے ای پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں 2 پاکستانیوں کی جانیں ضائع ہوئیں جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔
عاصم افتخار نے واضح کیا کہ پاکستان روسی فیڈریشن کے مسودے کو بھی مثبت نظر سے دیکھتا ہے کیونکہ اس کا بنیادی مقصد فوجی سرگرمیوں کا فوری خاتمہ اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خلیجی ممالک کی سرزمین پر حملے بند ہوں گے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رہے گی۔ پاکستان نے متاثرہ ممالک کی حکومتوں اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی لانے پر زور دیا ہے۔