واشنگٹن ( کیو این این ورلڈ) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک تہلکہ خیز انکشاف میں بتایا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران مشرق وسطیٰ میں قائم متعدد امریکی فوجی اور سفارتی تنصیبات کو ایرانی حملوں میں شدید نقصان پہنچا ہے۔ اخبار نے سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی اور اتحادی اہداف پر ڈرون اور میزائلوں سے انتہائی درست نشانے لگائے۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں مجموعی طور پر کم از کم 17 امریکی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 11 اہم فوجی اڈے اور حساس تنصیبات شامل ہیں۔ ان حملوں نے نہ صرف امریکی فوجی اڈوں بلکہ فضائی دفاعی نظام اور سفارتی مقامات کو بھی متاثر کیا ہے، جس سے خطے میں امریکی دفاعی صلاحیتوں پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے جن اہم مقامات کی فہرست جاری کی ہے ان میں سعودی عرب کا پرنس سلطان ایئر بیس اور قطر کا العدید ایئر بیس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کویت میں علی السالم ایئر بیس اور کیمپ بوہرنگ بھی ان حملوں کی زد میں آئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ (5th Fleet) ہیڈکوارٹر کو بھی ان حملوں میں شدید نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں واقع الظفرہ ایئر بیس اور جبل علی پورٹ بھی ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے محفوظ نہ رہ سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں حساس مقامات کا بیک وقت نشانہ بننا مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔