ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ننکانہ صاحب میں بین المذاہب ہم آہنگی کی خوبصورت مثال قائم کرتے ہوئے سکھ برادری کی جانب سے گوردوارہ جنم استھان میں مسلمان روزہ داروں کے لیے گرینڈ افطار کا اہتمام کیا گیا، جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایک ساتھ بیٹھ کر روزہ افطار کیا۔
افطار تقریب میں صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ، سابق صوبائی وزیر اعجاز عالم، ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ارسلان زاہد، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، ضلعی افسران، سکھ، ہندو اور مسیحی رہنماؤں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء نے پاکستان کی ترقی، سلامتی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ ننکانہ صاحب میں سکھ برادری کی جانب سے منعقد کی گئی یہ افطار محفل ایک خوبصورت اور روح پرور منظر پیش کر رہی ہے، جہاں مسلمان، سکھ، مسیحی اور ہندو برادری کے نمائندے ایک ساتھ بیٹھ کر روزہ افطار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہری برابر ہیں اور یہاں تمام مذاہب کے لوگوں کو مکمل مذہبی آزادی اور مساوی حقوق حاصل ہیں۔
سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ بابا گرو نانک دیو جی کا پیغام ہمیشہ محبت، اخوت اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرو نانک دیو جی نے ہمیشہ انسانیت کو ساتھ لے کر چلنے اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی تعلیم دی، اور آج گوردوارہ میں مختلف مذاہب کے افراد کا ایک ساتھ بیٹھ کر افطار کرنا اسی پیغام کی عملی تصویر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان محبت، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام دینے والا ملک ہے اور ننکانہ صاحب کی سکھ سنگت اور گوردوارہ انتظامیہ اس خوبصورت تقریب کے انعقاد پر مبارکباد کی مستحق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق صوبے میں مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جا رہا ہے اور حکومت پنجاب تمام مذاہب کے مقدس مقامات کی حفاظت اور ترقی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ اقلیتی امور فعال انداز میں کام کر رہا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں واضح کیا ہے کہ اقلیتیں پاکستان کا برابر کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی سکھ سنگت روزانہ اپنی ارداس میں سری ننکانہ صاحب کے درشن کی دعا کرتی ہے اور ہم دنیا بھر کے سکھوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان آئیں اور اپنے مقدس مقامات کے درشن کریں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب نے زائرین کے لیے بہترین انتظامات کیے ہیں اور آئندہ چند ماہ میں وہ بیس گردوارے کھولے جائیں گے جو گزشتہ اسی برس سے بند پڑے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی پروگرام کے تحت ان گردواروں کی بحالی اور مرمت کا کام جاری ہے جبکہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں تاریخی گردواروں کی کنزرویشن اور پریزرویشن پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔
سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ حکومت کا منصوبہ ہے کہ آئندہ تین برسوں میں پچاس تاریخی گردوارے دوبارہ کھولے جائیں تاکہ دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتری اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسلمان، سکھ، مسیحی اور ہندو برادری باہمی بھائی چارے اور احترام کے ساتھ رہتی ہے اور پاکستان دنیا کو امن اور محبت کا پیغام دیتا ہے۔
انہوں نے ہمسایہ ملک بھارت کو بھی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کو فروغ دیا جائے اور کرتارپور کوریڈور کو دوبارہ کھولا جائے تاکہ سکھ یاتری آسانی سے درشن کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ کئی ماہ سے کرتارپور کوریڈور بند رکھنا افسوسناک ہے، اس معاملے پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو نوٹس لینا چاہیے۔
آخر میں صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ملک ہے لیکن امن کو کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستانی قوم ہمیشہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے متحد رہی ہے اور آج بھی افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
