میہڑ (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار منظور علی جوئیہ) میہڑ کے نواحی گاؤں محمد صدیق جویو میں پرائمری سکول کے پلاٹ پر بااثر افراد کے مبینہ قبضے کے خلاف طلبہ اور دیہاتیوں نے شدید احتجاج کیا۔ عبدالحفیظ جویو، فیاض جویو اور عبدالوحید جویو کی قیادت میں اسکولی بچوں اور شہریوں نے دو کلومیٹر تک مارچ کیا اور میہڑ پریس کلب کے سامنے دھرنا دے کر نعرے بازی کی۔
مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گاؤں میں جو پلاٹ سکول کے لیے وقف ہے، اس پر ایک بااثر شخص اعجاز جویو نے مبینہ طور پر جرائم پیشہ افراد کے ساتھ مل کر قبضہ کر رکھا ہے۔ دیہاتیوں کے مطابق مذکورہ جگہ پر کسی بھی گاؤں والے کے آنے جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے، جس کی وجہ سے معصوم بچوں کی تعلیم سخت متاثر ہو رہی ہے۔
مظاہرین نے مزید انکشاف کیا کہ بااثر شخص قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کرنے پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ انہوں نے "تعلیم چاہیے، تالہ بندی نہیں” کے نعرے لگاتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے اپیل کی کہ بااثر شخص کے خلاف قانونی کارروائی کر کے سکول کی زمین واگزار کرائی جائے تاکہ بچوں کا تعلیمی مستقبل بچایا جا سکے، بصورتِ دیگر احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔