آدم خور پریشانیوں سے یوں نپٹا جائے!
تحریر: ظفر اقبال ظفر

پریشانیاں آدم خور بلاؤں کا نام ہے، لیکن آج ہم آدم کو ترغیب دیں گے کہ وہ پریشانی خور کیسے بن سکتا ہے اور موت سے پہلے تک جی سکتا ہے کیونکہ مقررہ وقتِ موت سے پہلے جینا چھوڑ دینا بھی خودکشی ہے۔ جو پریشانیاں انسان کے ہاتھوں سے ہی انسان کو مروا دیتی ہیں، صدمے کی صورت میں رہتی ہیں، بھوک اڑا دیتی ہیں، نیند غائب اور چین کھو جاتا ہے۔ متزلزل اعصاب کی موجودگی میں خود اعتمادی رخصت ہو جاتی ہے۔ تنہائی، افسردگی، غمگینی اور مایوسی زدہ حالات کا مسلط ہو جانا کمزور اعصاب کے انسانوں کا مقدر بنا پڑا ہے۔ چھوٹی چھوٹی پریشانیاں طاقتور سے طاقتور انسان پر حملہ کرتی کرتی ایک دن پورا انسان فتح کر لیتی ہیں، لیکن آج ہم پریشانیوں کو ہرانے کی ترکیب بتائیں گے کہ اس خاموش قاتل کو کیسے قتل کرنے کا جہاد کیا جا سکتا ہے۔

میں اوپر بیان کی گئی تمام حالتوں کا شکار رہا ہوں یا یوں سمجھ لیں مہک جذبات کی قید میں مریضانہ حد تک حساس انسان ہو چکا تھا۔ جتنا اس سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا، اتنا ہی اپنے اوپر طاری اس خول میں گھستا چلا جاتا۔ ایسے میں دماغی حالت پورے وجود کو بیزار اور بے لذت احساس میں مبتلا کر دیتی ہے۔ میں خاموش بیٹھا تھا کہ میرا پانچ سالہ بیٹا آفاق میرے پاس آیا اور کہنے لگا "پاپا مجھے مٹی سے کھلونے بنانا سکھا دیں”۔ میں عالمِ سوگ میں بیٹھا بالکل تیار نہیں تھا مگر اس کی ضد اور اصرار نے مجھے مجبور کر دیا تو اٹھ کھڑا ہوا اور اس کو سکھانے کے لیے گوندھی مٹی سے کھلونا بنانے میں مصروف ہو گیا۔ دو تین گھنٹے میں اس کے ساتھ مصروف رہا جس سے مجھے سکون اور اطمینان کا احساس ہونا شروع ہوا۔

مصروفیت میں ذہنی دھیان کے بھٹکنے سے مجھے جیسے کوئی زندگی کی راہ مل گئی ہو اور یہ احساس ہوا کہ پریشانی حالات سے زیادہ خیالات سے ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسی مصروفیات جس میں سوچ بچار اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہو، وہ پریشانی کا سب سے مفید علاج ثابت ہوتی ہے۔ میں نے گھریلو اور کاروباری ان تمام چیزوں کی لسٹ بنائی جو میری توجہ سے اصلاح کی منتظر تھیں اور انہیں درست کرنے کا آغاز کیا۔ ساتھ میں اچھی کتب کا مطالعہ، روزانہ صبح و شام نہانا اور خالی پیٹ واک کرنا، نیکی کے کاموں میں خود کو اس قدر مصروف کیا کہ اب میرے پاس پریشان و افسردہ ہونے کے لیے کوئی وقت ہی نہیں بچتا۔

برطانیہ کے سابق وزیراعظم مسٹر ونسٹن چرچل جنگ کے انتہائی نازک وقت میں روزانہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے تھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ "آپ جنگی ذمہ داریوں میں پریشان تو ہوتے ہوں گے؟” تو ان کا جواب تھا "میں بے حد مصروف ہوں، میرے پاس پریشان ہونے کے لیے کوئی وقت نہیں”۔ لائبریریوں اور لیبارٹریوں میں اسی وجہ سے سکون پایا جاتا ہے کہ وہاں لوگ ذہنی طور پر مصروف ہو جاتے ہیں۔ کتاب بین، ریسرچر اور سکالر شاذ و نادر ہی اعصابی شکست کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ مصروفیت جیسی معمولی چیز بڑی بڑی پریشانیوں سے کیسے نکال سکتی ہے تو نفسیات کی تحقیق سے نکلی شہادت سن لیں۔ کسی بھی انسانی دماغ کے لیے، خواہ وہ کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو، ایک وقت میں ایک سے زیادہ چیزوں کے متعلق سوچ بچار کرنا ناممکن ہے۔

ہم ایک ہی وقت میں ماضی اور مستقبل کے بارے میں نہیں سوچ سکتے، ایک وقت میں ایک پہلو ہی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ یہی اصول جذبات کی دنیا پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ بیک وقت کسی اشتعال انگیز چیز کے متعلق پرجوش، سرگرم اور رنجیدہ و فکر مند نہیں ہو سکتے، یعنی جذبات کی ایک قسم دوسری قسم کو خارج کر دیتی ہے۔ مصروفیت کے عمل کو دوا کی حیثیت سے تجویز کیا جاتا ہے۔ یونانی اسے "ورانہ” طریقِ علاج کہتے ہیں جو سینکڑوں سالوں سے چلا آ رہا ہے۔ ذہنی بیمار مریضوں کو کسی مشغلے میں مصروف کر دیا جائے تو ان کی عقلی صحت واپس بحال ہو جاتی ہے۔ مصروفیات سے بہتر کوئی دوا نہیں جو اعصاب کو سکون بخشتی ہے۔ بڑے سے بڑے صدمے کے وقت صاحبِ عقل لوگ اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسکین دیتے ہیں کہ مجھے کام میں فوری مگن ہو جانا چاہیے، نہیں تو مایوسی مجھے فنا کر دے گی۔

میرا یہ بھی ماننا ہے کہ مصروفیت میں ہمارے جسمانی اعضاء تو کام کر رہے ہوتے ہیں مگر ہمارا دماغ کہیں اور ہی قلابازیاں کھا رہا ہوتا ہے۔ پریشان خیالات ابتدائے مصروفیت میں لطف نہیں اٹھانے دیتے اور نہ دماغ کو فوری راحت بخشتے ہیں، اس لیے جلد ہار نہیں ماننی چاہیے۔ آپ نے خود پر ہر حال میں یہ قانون لاگو رکھنا ہے کہ خوشگوار خیالات کی مدد سے تلخ خیالات کو ذہن سے دھکے مار مار کر باہر نکالنا ہے اور خالی الذہن نہیں رہنا۔ فزکس اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ فطرت خلا سے نفرت کرتی ہے، کائنات کی ہر تخلیق پُر ہے چاہے وہ ہوا سے ہی کیوں نہ ہو۔ فطرت خالی دماغ کو جذبات سے پُر کرنے میں نہایت عجلت کرتی ہے۔ خوف، ڈر، پریشانی، نفرت اور حسد و شک کے جذبات کو خارجی قوت اور متحرک کشش اپنے ریلے میں بہا لاتے ہیں جو اتنے شدید ہوتے ہیں کہ ہمارے ذہن سے امن و سکون کے تمام خیالات و جذبات کو نکال باہر کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔

پریشانی آپ کو ذہنی مصروفیت کے اوقات میں شکستہ و افسردہ ہونے پر مائل نہیں کر سکتی۔ پریشانی کا علاج یہی ہے کہ اپنے آپ کو مکمل طور پر کسی تعمیری کام میں مصروف کر لیا جائے۔ جب انسان اپنے کام میں مصروف ہوتا ہے تو ایک مخصوص قسم کی آرام دہ سلامتی، اندرونی سکون اور خوشگوار بے حسی اس کے اعصاب پر تسکین بن کر چھائی رہتی ہے۔ مزدور اور محنت کش طبقہ ایسی نعمتوں سے مالا مال ہوتا ہے اور ان کی نسبت مالدار لوگوں میں خودکشیاں زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ پیسے سے پیسہ کمانا اتنا صحت بخش نہیں ہوتا جتنا محنت مزدوری سے کمانا ہوتا ہے۔ غم و افسردگی کو اہمیت اور وقت نہ دینے والوں پر خدا کی رحمت نچھاور ہو کر رہتی ہے۔ اپنے اوپر قیادت حاصل کرنے والی ایک غیر معمولی قوت کا احساس مل جانا خدا کی رحمت ہی تو ہے۔ سوچوں کا تانا بانا بننے والا شخص پریشانی اور بے خوابی میں مبتلا، کھنچا کھنچا سا اور جلا بھنا ہر وقت غصے کے عالم میں رہتا ہے جو اعصابی شکست کی علامت ہے۔

آپ پریشانیوں سے پیچھا چھڑوانا چاہتے ہیں اور اپنے آپ پر قیادت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو خود اعتمادی کا جذبہ تعمیری مصروفیات سے حاصل کریں۔ آپ کا دماغ اپنے کنٹرول میں ہے تو آپ اور آپ کے تمام حالات آپ کے اختیار میں ہیں اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسا عقلمند بندہ اپنے آپ کو پریشانیوں کے داؤ پر نہیں لگا سکتا۔ اکثر پریشانیاں اور افسردگیاں تخیل کی پیداوار ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔ جلد بازی اور جذباتیت سے کام لینے کی عادت کو فوری چھوڑ دیں اور اپنے دماغ میں تلخ خیالات کی رفتار کم کرنے کے لیے تحمل کے زیادہ سے زیادہ اسپیڈ بریکر لگائیے، بلکہ زیادہ مفید تو یہ ہے کہ اعصابی مضبوطی کا بنا پھاٹک لگائیے۔ اس کے اوپر پریشانیوں کی ٹریفک کے لیے بورڈ آویزاں کیجئے جس پر یہ عبارت تحریر ہو:

"اس ذہن میں پریشان خیالات کا داخلہ سختی سے بند ہے، آگے خوشگوار خیالات کا تعمیری کام تیزی سے جاری ہے۔”

آپ خود سے پیار کرنے والے وہ شخص کیوں نہیں بنتے جسے حقائق کے تجزیے نے قوتِ عمل دے کر شاہراہِ کامیابی پر ڈال دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے