یروشلم (کیو این این ورلڈ) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والا ہولناک تنازعہ آج اپنے نویں دن میں داخل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں انسانی جانوں کا ضیاع اور تباہی کی لہر برقرار ہے۔ 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک اسرائیل کے اندر زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 2،072 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں سے 157 زخمیوں کو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ صحت اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، زیادہ تر شہری میزائل حملوں کے دوران شیلٹرز کی طرف بھاگتے ہوئے یا گرنے والے ملبے کی زد میں آ کر زخمی ہوئے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ایران کی جانب سے تل ابیب سمیت وسطی اسرائیل پر کیے گئے میزائل حملوں میں مزید 6 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ایک درجن سے زائد مقامات پر میزائلوں کے ٹکڑے گرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران نے ان حملوں میں کلسٹر بم وارہیڈز کا استعمال کیا ہے تاکہ وسیع رقبے پر نقصان پہنچایا جا سکے۔

دوسری جانب، جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں اسرائیل کو جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں اینٹی ٹینک میزائل حملے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 38 سالہ سارجنٹ فرسٹ کلاس ماہر خطار بھی شامل ہے، جو مجدل شمس کا رہائشی اور 91 ویں ڈویژن کا کامبیٹ انجینئر تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک فوجی چوکی کے قریب بکتر بند گاڑی نکالنے کی کوشش کے دوران بلڈوزر کو نشانہ بنایا گیا، جس سے آگ بھڑک اٹھی۔

جنگ کے مجموعی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو اس تنازعے کا آغاز امریکی اور اسرائیلی افواج کے ان حملوں سے ہوا جن میں ایران کی فوجی تنصیبات، نیوکلیئر پروگرام اور قیادت کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ حکام جاں بحق ہوئے تھے۔ اب ایران نے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر نامزد کر دیا ہے، جبکہ جوابی کارروائی کے طور پر اسرائیل، خلیجی ممالک اور امریکی اڈوں پر سینکڑوں ڈرون اور میزائل حملے کیے جا رہے ہیں۔ اس جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں اور تاحال کسی جنگ بندی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے