ننکانہ صاحب(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار احسان اللہ ایاز)کراچی سے تعلق رکھنے والے ممتاز پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر آغا ذیشان مرزا نے عالمی سطح پر بڑا اعزاز حاصل کرتے ہوئے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ انہیں سٹانفورڈ یونیورسٹی اور ایلسیویئر (Elsevier) کے مشترکہ ڈیٹا کی بنیاد پر سال 2024 اور 2025 کے لیے دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سائنسدانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ معتبر اعزاز ان کی اعلیٰ تحقیقی خدمات، عالمی اثر و رسوخ اور سائنسی حوالہ جات (citations) کی نمایاں تعداد کا اعتراف ہے۔

تفصیلات کے مطابق آغا رئیس مرزا کے صاحبزادے ڈاکٹر آغا ذیشان مرزا نے اپنی ابتدائی اعلیٰ تعلیم ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کراچی سے حاصل کی اور 2003 میں جامعہ کراچی سے کیمسٹری میں ایم ایس سی کیا۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ایبٹ لیبارٹریز سے بطور کیمسٹ کیا، جس کے بعد 2011 میں جامعہ کراچی سے ہی آرگینک کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی۔ دورانِ تحقیق انہیں امریکہ کی معروف پرڈیو یونیورسٹی (Purdue University) میں بطور وزٹنگ ریسرچ اسکالر کام کرنے کا موقع بھی ملا۔

ڈاکٹر آغا ذیشان مرزا کی تحقیق کا بنیادی میدان حیاتیاتی اہمیت رکھنے والے مرکبات کی تیاری (Synthesis) ہے۔ ان کی حالیہ تحقیق میں ایسے بائی فنکشنل ہائبرڈ مرکبات کی ڈرگ ڈیزائننگ شامل ہے جو کینسر اور ذیابیطس جیسے امراض کے علاج میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اب تک ان کے 70 سے زائد تحقیقی مقالے بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جبکہ وہ مکہ مکرمہ کی ام القریٰ یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر تدریسی و تحقیقی خدمات بھی انجام دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سٹانفورڈ یونیورسٹی کی اس فہرست میں انتخاب سائنسی پیمانوں جیسے ایچ انڈیکس (H-index) اور دیگر بائبلیومیٹرک اشاریوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر آغا ذیشان مرزا کی اس کامیابی کو عالمی سائنسی برادری میں پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے