پشاور (کیو این این ورلڈ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو "ایٹم بم” قرار دیتے ہوئے صوبے کے تمام رجسٹرڈ موٹر سائیکل سواروں کو 2200 روپے ماہانہ سبسڈی دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان اور مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق کو چاہیے کہ وہ عوام کو پیسنے کے بجائے اپنی شاہ خرچیاں کم کرے، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے نئی گاڑیوں کی خریداری اور بین الاقوامی دوروں پر پابندی لگا کر بچت کی مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں تقریباً 14 سے 16 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکل سواروں کو یہ ریلیف فراہم کیا جائے گا تاکہ بڑھتے ہوئے سفری اخراجات کا مداوا ہو سکے۔ اس کے علاوہ بی آر ٹی کے کرایوں میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا اور اس کا اضافی بوجھ حکومت خود برداشت کرے گی۔
پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ نے سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سیلاب اور دیگر ناگہانی آفات میں ہم نے ہمیشہ ساتھ دیا اور سیاست نہیں کی، لیکن موجودہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی صحت جیسے معاملات پر بھی سیاست چمکا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق کو صوبوں کو اعتماد میں لینا چاہیے، تاہم حالیہ 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔