اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ افغانستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی پشت پناہی کی ہے اور اب افغان حکومت پر مزید اعتبار کرنا کسی صورت درست نہیں۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کابل حکومت پر بھروسہ کرنا ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور ان کا جو وتیرہ ہے وہ نہ آج قابلِ قبول ہے اور نہ ہی کل اسے قبول کیا جائے گا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تمام معاملات حل کرنے کی بھرپور کوششیں کیں لیکن ان کا مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں سرگرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) دراصل افغانستان کی ایک فرنچائز ہے، اور اگر ان شرپسندوں کو افغان حکومت کی پشت پناہی حاصل نہ ہوتی تو یہ گروہ کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔
وزیر دفاع نے عالمی حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم کی قیمتیں اس وقت پوری دنیا پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ انہوں نے ایران سمیت تمام اسلامی ممالک کو پاکستان کا برادر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ خطے میں جاری کشیدگی کا کوئی مستقل حل نکل آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ یہ ایک عارضی مرحلہ ہو اور جنگ کی اس صورتحال سے جلد نجات مل سکے۔