ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ/نیوز رپورٹر شاہدخان) سردار فتح محمد خان بزدار انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں تعینات سکیورٹی گارڈز گزشتہ پانچ ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث شدید معاشی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ غریب ملازمین کے گھروں میں فاقہ کشی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جبکہ متعلقہ انتظامیہ اور کمپنیاں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سکیورٹی گارڈز کی واجب الادا تنخواہیں مختلف کمپنیوں کے پاس رکی ہوئی ہیں، جن میں دو تنخواہیں عسکری کمپنی، ایک پیسیفک کمپنی اور دو تنخواہیں موجودہ کمپنی ‘یک جان’ کے ذمہ ہیں۔ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی ان محنت کشوں کو اجرت نہ ملنا انتہائی افسوسناک امر ہے، جس نے ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

متاثرہ گارڈز کا کہنا ہے کہ انسٹیٹیوٹ کے ایم ایس ڈاکٹر رمضان سمرا اور سکیورٹی فوکل پرسن اے ایم ایس ڈاکٹر ارسلان اس سنگین معاملے پر کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھا رہے۔ انتظامی نااہلی اور کمپنیوں کی من مانی کے باعث غریب ملازمین کا جینا محال ہو چکا ہے۔

دوسری جانب کمشنر ڈیرہ غازی خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی تاحال اس صورتحال کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتِ پنجاب فوری مداخلت کر کے مظلوم سکیورٹی گارڈز کی رکی ہوئی تنخواہیں دلوانے کیلئے ایکشن لے تاکہ وہ اس مہنگائی کے دور میں اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے