واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) خواتین اور بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے بدنام زمانہ امریکی شخصیت جیفری ایپسٹین سے جڑی نئی فائلز منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک خاتون کی جانب سے جنسی زیادتی کی کوشش کا سنگین الزام سامنے آیا ہے۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آئی کی جاری کردہ ان نئی دستاویزات نے امریکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ 80 کی دہائی میں جب اس کی عمر محض 13 سے 15 سال کے درمیان تھی، جیفری ایپسٹین اسے ایک امیر شخص سے ملوانے لے گیا تھا، جسے اس نے بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ کے طور پر شناخت کیا۔ خاتون کا الزام ہے کہ اس ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کمرے میں موجود دیگر افراد کو باہر بھیج دیا اور اسے زبردستی جنسی عمل پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔

خاتون نے انکشاف کیا کہ اس نے ٹرمپ کی اس کوشش کے خلاف شدید مزاحمت کی اور دفاع کرتے ہوئے انہیں جسم کے ایک حصے پر کاٹ لیا۔ خاتون کے مطابق اس مزاحمت پر ٹرمپ غصے میں آ گئے، انہوں نے اس کے بال کھینچے اور اسے مکا بھی مارا۔ یہ فائلز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ٹرمپ پہلے ہی مختلف قانونی اور سیاسی محاذوں پر نبرد آزما ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی غلط کاری کی تردید کی ہے۔ ان کے حامیوں کا موقف ہے کہ یہ الزامات سیاسی بنیادوں پر لگائے جا رہے ہیں تاکہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین کیس سے جڑی فائلز میں پہلے بھی کئی عالمی شخصیات کے نام سامنے آ چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے