بیجنگ (کیو این این ورلڈ) چین میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک شخص نے کھانے کے لیے بطخ ذبح کی تو وہ اسے لکھ پتی بنا گئی۔ وسطی چین کے صوبہ ہونان کے علاقے لونگ ہوئی (Longhui) سے تعلق رکھنے والے ‘لیو’ نامی شخص نے جب بطخ کے گوشت کی صفائی شروع کی تو اس کے معدے سے سونے کے ذرات دریافت ہوئے جس نے اسے حیران کر دیا۔
ان ذرات کی جانچ پڑتال کرنے پر تصدیق ہوئی کہ یہ واقعی اصلی سونا ہے۔ بطخ کے اندر سے مجموعی طور پر 10 گرام سونا برآمد ہوا جس کی عالمی مارکیٹ میں مالیت لگ بھگ 12 ہزار یوآن بنتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں 4 لاکھ 86 ہزار روپے سے زائد بنتی ہے۔ لیو کے والد نے اس واقعے کو چینی سالِ نو کے موقع پر خاندان کے لیے بڑی خوش قسمتی قرار دیا ہے۔
لیو کے مطابق اس نے یہ بطخ ایک ایسے دریا کے کنارے پالی تھی جہاں ماضی میں سونے کی کان موجود تھی۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بطخ نے خوراک کی تلاش کے دوران سونے کے ذرات پر مشتمل مٹی نگل لی ہوگی۔ چونکہ بطخ کا جسم سونے کو ہضم یا جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے یہ قیمتی ذرات اس کی آنتوں میں جا کر پھنس گئے تھے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس گاؤں میں ماضی میں بھی لوگوں کو بطخوں کے اندر سے سونا ملتا رہا ہے، تاہم اتنی بڑی مقدار میں سونا نکلنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ جس دریا کے کنارے یہ بطخیں پالی جاتی ہیں، وہاں کسی زمانے میں باقاعدہ سونا نکالا جاتا تھا، مگر بعد میں حکومت نے وہاں سونے کی تلاش پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اب اکثر مقامی افراد کی پالی ہوئی بطخیں وہاں سے مٹی نگلتی ہیں تو ان میں ایسے ذرات مل جاتے ہیں۔