سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/ بیورو چیف مدثر رتو) ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے پاک فوج کے ایک اور بہادر سپاہی نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ سیالکوٹ کے نواحی علاقے ڈنپور کھڑولیاں سے تعلق رکھنے والے مسیحی جوان سپاہی ارمیہ الیاس وطنِ عزیز کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔
شہید ارمیہ الیاس 4 مارچ 2026 کی صبح پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں جاری ایک اہم آپریشن کے دوران دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے مادرِ وطن کے دفاع میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور بہادری کی ایک نئی داستان رقم کی۔
سپاہی ارمیہ الیاس کا تعلق مسیحی برادری سے تھا اور ان کی یہ عظیم قربانی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا دفاع ہر شہری کے لیے مقدم ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا عقیدے سے ہو۔ ایک مسیحی پاکستانی سپاہی کے طور پر ان کی شہادت حب الوطنی کے اس بے مثال جذبے کی علامت ہے جو تمام پاکستانیوں کو ایک لڑی میں پروتا ہے۔
ارمیہ الیاس کی شہادت کی خبر پر پورے علاقے میں فخر اور سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہید کے اہل خانہ، خصوصاً والدین کے غم میں پوری قوم برابر کی شریک ہے۔ دعا کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ پسماندگان کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
پاکستانی قوم اپنے اس بہادر بیٹے کو سلام پیش کرتی ہے جس نے سرحدوں کی نگہبانی کرتے ہوئے اپنی جوانی ملک پر قربان کر دی۔ ارمیہ الیاس کی یہ قربانی پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائے گی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔