اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) سعودی عرب کی راس تنورہ پورٹ بند ہونے کے بعد پاکستان نے بحیرہ احمر میں واقع متبادل سعودی بندرگاہ سے تیل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

ملکی ریفائنریز نے موجودہ ذخائر سے زائد تیل نکالنے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنا شروع کر دی ہے تاکہ طلب کو پورا کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت پیٹرول کی بچت کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے، جس میں ملازمین کے لیے ‘ورک فرام ہوم’ (گھر سے کام) کی پالیسی دوبارہ متعارف کرانا بھی شامل ہے۔

انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتیں انتہائی زیادہ ہونے کے باعث اب متبادل کے طور پر ملک کے اندر بند پڑے گیس کے کنوؤں سے دوبارہ پیداوار حاصل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ قدم مہنگی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ تیل کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے سنگاپور کی مارکیٹ سے بھی پیٹرول کی خریداری کی تجویز زیر غور ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بین الاقوامی کشیدگی کے دوران ملکی توانائی کا نظام متاثر نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے