تہران (کیو این این ورلڈ) ایرانی پاسداران انقلاب نے کلسٹر بموں سے لیس "خیبر شکن” میزائلوں کے ذریعے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کو نشانہ بنایا ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق ایران نے ایک ہی وقت میں درجنوں ڈرونز اور میزائلوں سے اسرائیل پر حملہ کیا، تاہم فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
حملے کے وقت تل ابیب میں فضائی صورتحال دکھانے والے براہ راست کیمروں کا رخ اچانک زمین کی طرف موڑ دیا گیا تاکہ میزائلوں کو فضا میں داخل ہوتے نہ دیکھا جا سکے۔ حیرت انگیز طور پر اس بڑے حملے کے دوران شہر میں خطرے کے سائرن بھی نہیں بجائے گئے جس سے صورتحال مزید پراسرار ہو گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی ڈرونز نے خلیج عمان میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز "ابراہام لنکن” پر بھی حملہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے کے فوراً بعد امریکی بحری جہاز خلیج کے علاقے سے دور پیچھے ہٹ گیا ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔
ادھر بحرین کے دارالحکومت منامہ میں بھی دو ہوٹل اور ایک رہائشی عمارت ڈرون حملے کا نشانہ بنی ہے۔ خوش قسمتی سے ان واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں اور فضائی و بحری نقل و حرکت شدید متاثر ہے۔