نوشہروفیروز (کیو این این ورلڈ/محمد ساجد مغل) پریس کلب پڈعیدن کے آفس سیکریٹری اور سندھ جرنلسٹ کونسل کے ممبر محمد سلیم سومرو نے نیشنل پریس کلب نوشہروفیروز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی ایس پی سردار چانڈیو کے رویے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈی ایس پی نے نہ صرف ان کی تذلیل کی بلکہ ضلع بھر کے صحافیوں کے لیے انتہائی غلیظ زبان بھی استعمال کی۔

محمد سلیم سومرو نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پڈعیدن کے ایک نوجوان طلحہ راجپوت کے ساتھ ان کا 15 ہزار روپے کا لین دین تھا اور ان کے پاس چیک موجود تھا۔ تاہم، طلحہ راجپوت نے مبینہ طور پر جعلسازی کرتے ہوئے چیک کی رقم پر ایک زیرو کا اضافہ کر کے اسے ڈیڑھ لاکھ روپے بنا دیا اور ڈی ایس پی آفس نوشہروفیروز میں ان کے خلاف درخواست دائر کر دی۔

صحافی رہنما کا کہنا تھا کہ جب وہ انکوائری کے لیے ڈی ایس پی سردار چانڈیو کے دفتر پہنچے تو افسر نے کیس کی قانونی تحقیقات کرنے کے بجائے ان کے ساتھ بدتمیزی کی۔ ڈی ایس پی نے صحافیوں کو "بلیک میلر” کے القابات سے نوازا اور گالیاں دیتے ہوئے محمد سلیم سومرو کو دفتر سے باہر نکال دیا۔

انہوں نے حکام کو خبردار کیا کہ اگر کرپٹ اور بد اخلاق ڈی ایس پی سردار چانڈیو کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو ضلع بھر کے صحافی سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔ محمد سلیم سومرو نے انتباہ دیا کہ انصاف نہ ملنے کی صورت میں وہ ایس ایس پی آفس نوشہروفیروز کے سامنے احتجاجاً خود سوزی کر لیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے