واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی فورسز کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے ہتھیار نہ ڈالے تو انہیں عبرتناک موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے بعد ایک اہم اعلان میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن جاری رہے گا اور امریکی شہریوں کے خون کا بدلہ ہر صورت لیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پر حملوں کا سلسلہ چار ہفتوں سے زائد وقت لے سکتا ہے اور یہ جنگ ایک ماہ تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایرانی رجیم کو کسی بھی قیمت پر ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ ایران کے دور تک مار کرنے والے جوہری میزائل امریکی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی پوری فوجی کمانڈ اب ختم ہو چکی ہے اور بہت سے ایرانی اہلکار خود ہتھیار ڈالنے کے خواہش مند ہیں۔ ان کے مطابق اب تک ایران میں سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے اور امریکہ نے ایران کی 48 اہم ترین شخصیات کو ہلاک کر دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس جنگ کے خاتمے کے بعد ایران میں جمہوریت قائم ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید بتایا کہ انہوں نے سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن کے سربراہان سے رابطہ کیا ہے اور جب تک امریکی مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے، یہ کارروائی رکنے والی نہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مزید امریکیوں کی ہلاکتیں بھی ہو سکتی ہیں، تاہم انہوں نے پاسدارانِ انقلاب کو ایک بار پھر ہتھیار ڈالنے کی تاکید کرتے ہوئے ایرانی عوام سے کہا کہ وہ ان لمحات میں اپنا وطن واپس لے لیں۔