اسلام آباد (کیو این این ورلڈ)پاکستان کی مسلح افواج کے آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان پر جاری بھرپور کارروائیوں کی تازہ ترین معلومات کے مطابق اب تک 104 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور 22 چیک پوسٹوں پر پاک فوج کا قبضہ قائم ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے بتایا کہ افغانستان میں 37 مقامات کو فضائی حملوں کے ذریعے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ افغان فورسز کے 163 ٹینک اور دیگر آرمڈ گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئی ہیں۔ وزیر اطلاعات کے مطابق آپریشن کے دوران 331 طالبان ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں مہمند دھارا بیس کے دو اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جبکہ قندھار میں فضائی حملے کے دوران افغان فوج کے ہیڈ کوارٹرز کو تباہ کر دیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے ژوب سیکٹر میں افغان طالبان کی طاہر پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور جنڈوسر پوسٹ کو بھاری نقصان پہنچایا۔ اسی طرح میرانشاہ کے قریب افغان طالبان کے پوسٹ ٹاور اور اعظم وارسک سیکٹر میں شاگاپوسٹ کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
نوشکی سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹ تباہ کی گئی اور اوماری کیمپ کو بھاری نقصان پہنچا۔ قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں دشمن کی دراندازی ناکام بنائی گئی جبکہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر کڑی نگرانی جاری ہے۔ آپریشن کے دوران وادی تیراہ کے سرحد پار افغانستان کے علاقے دوربابا میں افغان پوسٹ پر گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں دو اہم طالبان کمانڈرز بسم اللہ اور رستم سمیت چار افراد ہلاک ہوئے اور افغان پوسٹ تباہ ہو گئی۔
پاک فوج اور پاک فضائیہ کی کارروائیوں سے افغان طالبان رجیم کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے اور دشمن کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں تباہ کیا جا رہا ہے۔ آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور متعلقہ حکام کے مطابق اس کو اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رکھا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے افغانستان کی جانب سے پاکستانی طیارہ گرنے کے دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ متعلقہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور پاک فوج اپنی سرحدوں کی حفاظت اور دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ آپریشن پاکستان کی مسلح افواج کی طرف سے افغان طالبان کی جارحیت کے جواب میں کیا گیا ہے جس میں زمینی و فضائی کارروائیوں کے ذریعے دشمن کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور سرحدی علاقوں میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کیا گیا ہے۔