اسلام آباد: (کیو این این ورلڈ) پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی جانب سے مسلسل بلااشتعال فائرنگ اور سرحدی خلاف ورزیوں کے بعد پاک فوج کا آپریشن “غضب للحق” پوری قوت اور شدت کے ساتھ جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دشمن کو اب تک بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، 133 افغان حملہ آور جہنم واصل جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، متعدد چیک پوسٹیں، اسلحہ ڈپو، لاجسٹک بیسز اور اہم عسکری مراکز تباہ کر دیے گئے ہیں۔

وزارت اطلاعات و نشریات کے جاری کردہ بیان کے مطابق افغان طالبان رجیم نے چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ کے سرحدی علاقوں میں بلااشتعال فائرنگ کی اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا، جس پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری، مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ افغان قیادت نے سنگین غلط فہمی کا مظاہرہ کیا اور ہر سیکٹر میں اسے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تازہ فضائی کارروائیوں میں کابل میں دو بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ قندھار میں ایک کور ہیڈکوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے جبکہ ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹک بیس بھی ملیامیٹ کر دیے گئے۔ ننگرہار میں ایک بڑا اسلحہ ذخیرہ تباہ کیا گیا جبکہ پکتیا میں مؤثر فضائی حملے کے دوران دشمن کے کور ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ زمینی کارروائیوں میں اب تک 27 افغان پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ 7 پوسٹوں پر پاکستانی فورسز نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ مؤثر جوابی کارروائی میں 50 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کی گئی ہیں۔ آرٹلری فائر کے ذریعے افغان طالبان رجیم کا ایک اہم سیکٹر ہیڈکوارٹر بھی تباہ کیا گیا ہے۔

طورخم بارڈر پر افغان جارحیت کے بعد پاک فوج کی بھرپور کارروائی سے دشمن پسپا ہو گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی افواج کے شدید ردعمل کے باعث افغان جنگجو کئی مقامات پر چوکیاں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ مہمند سیکٹر کے قریب بھی افغان طالبان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی جبکہ باجوڑ میں دو چوکیاں تباہ کی گئیں۔ باجوڑ سیکٹر میں دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے ایک دہشتگرد کو زندہ گرفتار کر لیا گیا، جس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق افغان جانب سے جارحیت کے جواب میں پاکستانی فورسز نے ٹینکوں اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے متعدد پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی شاہینوں کی قندھار کی فضاؤں میں پیٹرولنگ جاری ہے اور کسی مؤثر مزاحمت کی اطلاع نہیں ملی۔ اطلاعات ہیں کہ دشمن نے طورخم کے اطراف سے سامان ٹرکوں پر لوڈ کر کے پسپائی اختیار کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ افواجِ پاکستان ملک کے امن اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں اور کسی بھی جارحیت کو خاک میں ملانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پیشہ ورانہ مہارت اور قومی جذبے کے ساتھ ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔

وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان طالبان رجیم اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے جھوٹا پراپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے، مگر زمینی حقائق ان کے دعوؤں کو جھٹلا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ جس طرح مشرقی سرحد پر دشمن کو مؤثر جواب دیا گیا تھا، مغربی سرحد پر بھی ویسا ہی بھرپور اور فیصلہ کن ردعمل جاری ہے، اور پاکستان کے امن پر حملہ کرنے والوں کو سخت قیمت چکانا پڑے گی۔

دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے Sky News کی جانب سے افغانستان ایئرفورس کے ذریعے پاکستان پر حملے کے مبینہ دعوے کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد حذف کر دیا گیا، جسے حکام نے گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سرحد پار سے ہونے والی ہر جارحیت کا مکمل اور فیصلہ کن جواب نہیں دے دیا جاتا۔ پاکستانی افواج مکمل الرٹ ہیں اور ہر محاذ پر دشمن کے عزائم ناکام بنائے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے