اوکاڑہ (بیورو چیف ملک ظفر)ضلع اوکاڑہ میں رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی نے روزہ داروں اور پسے ہوئے طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق زندہ مرغی کی قیمت 15 روپے فی کلو اضافے کے بعد 410 روپے تک جا پہنچی ہے۔ لہسن فی کلو 28 روپے تک مہنگا ہوا جبکہ پیاز کی قیمت میں 3 روپے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ٹماٹر چند روز میں 4 روپے فی کلو مہنگا ہو گیا۔ ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں بھی 26 روپے تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ انڈوں کی قیمت فی درجن 33 روپے بڑھ گئی ہے۔ چکن، گوشت، کھجور، سیب اور کیلے سمیت دیگر پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ذخیرہ اندوز اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والا مافیا جرمانوں سے بے فکر ہو کر من مانی قیمتیں وصول کر رہا ہے، جس کے باعث عام آدمی کی پہنچ سے بنیادی اشیاء دور ہوتی جا رہی ہیں۔ عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی مہنگائی میں ملوث عناصر کے خلاف بھاری جرمانوں کے ساتھ ساتھ سخت قانونی سزاؤں کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔
دوسری جانب چند اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 47 روپے تک کمی آئی ہے جبکہ چینی فی کلو تقریباً ڈیڑھ روپے سستی ہوئی ہے۔ دال مسور، خوردنی تیل، گھی، چاول اور گڑ بھی نسبتاً سستی ملنے والی اشیاء میں شامل ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران خصوصی پرائس کنٹرول مہم چلائی جائے، بازاروں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے اور سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔