سجاول (کیو این این ورلڈ/بلاول سموں کی رپورٹ) ضلع سجاول کی حدود میں ایک انتہائی حیران کن اور سنگین واقعہ پیش آیا ہے جہاں منشیات سے بھری ایک پولیس موبائل تیز رفتار ٹرک سے ٹکرا گئی، اس حادثے نے نہ صرف پولیس کی گاڑی کو بری طرح متاثر کیا بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اندر موجود کالی بھیڑوں کا پردہ بھی فاش کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حادثہ اتنا شدید تھا کہ پولیس موبائل کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، تاہم اصل ہلچل اس وقت مچی جب جائے وقوعہ پر پہنچنے والے افراد اور عینی شاہدین نے دعویٰ کیا کہ حادثے کا شکار ہونے والی سرکاری گاڑی سے بڑی مقدار میں منشیات برآمد ہوئی ہے جو بظاہر کہیں اسمگل کی جا رہی تھی یا کسی خاص مقصد کے لیے منتقل کی جا رہی تھی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ سجاول کی ایک اہم شاہراہ پر پیش آیا جہاں تیز رفتاری کے باعث پولیس موبائل توازن برقرار نہ رکھ سکی اور سامنے سے آنے والے ٹرک سے جا ٹکرائی، حادثے کے فوراً بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی اور جب تلاشی لی گئی تو مبینہ طور پر گاڑی سے منشیات کے پیکٹ برآمد ہوئے۔ اس انکشاف نے مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام کی دوڑیں لگوا دی ہیں کیونکہ ایک سرکاری گاڑی کا منشیات کی نقل و حمل میں استعمال ہونا محکمہ پولیس کی ساکھ پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسران نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی۔

دوسری جانب پولیس حکام نے روایتی موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور یہ معلوم کیا جائے گا کہ گاڑی میں موجود منشیات کہاں سے آئی اور اسے کہاں لے جایا جا رہا تھا۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام، بالخصوص آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی حیدرآباد سے مطالبہ کیا ہے کہ اس شرمناک واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے اور اس میں ملوث اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ عوام کا قانون پر اعتماد بحال ہو سکے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر محافظ ہی منشیات فروشی میں ملوث ہوں گے تو معاشرے سے اس لعنت کا خاتمہ ناممکن ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے