اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاک افغان سرحد پر جاری "آپریشن غضب للحق” میں افواجِ پاکستان کی فیصلہ کن کارروائیوں کے نتیجے میں افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب تک طالبان کے 527 کارندے ہلاک اور 755 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ پاک فوج نے دشمن کی 237 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر کے 38 اہم پوسٹوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
وزیر اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس آپریشن کے دوران اب تک دشمن کے 198 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز (توپیں) بھی تباہ کی جا چکی ہیں۔ فضائیہ کی مدد سے افغانستان بھر میں 62 مختلف مقامات کو انتہائی مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے شرپسند عناصر کے سپلائی لائن اور دفاعی ڈھانچے کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر کرم، ژوب اور قلعہ سیف اللہ سیکٹرز میں پاک فوج نے بھاری آرٹلری فائر کا استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ شدید بمباری کے باعث افغان طالبان اپنی کئی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان کارروائیوں میں فتنہ الخوارج کے محفوظ ٹھکانوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا ہے۔
سیکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ پاک فوج کی مؤثر حکمت عملی کے باعث دشمن کو ہر محاذ پر پسپائی کا سامنا ہے۔ آپریشن غضب للحق تاحال پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور عسکری قیادت کے مطابق یہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک تمام متعین کردہ اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے۔ سرحدوں کے تحفظ کے لیے پاک فوج کی زمینی اور فضائی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔