واہگہ بارڈر سے پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کا ننکانہ صاحب میں شاندار استقبال

ننکانہ صاحب: (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف احسان اللہ ایاز) مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 187ویں برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سے 346 سے زائد سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے۔ سکیورٹی اور امیگریشن کی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد سکھ یاتریوں کو خصوصی کوچز کے ذریعے سخت سکیورٹی حصار میں گورودوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب منتقل کیا گیا۔

ننکانہ صاحب آمد پر ضلعی انتظامیہ، محکمہ اوقاف اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام نے سکھ یاتریوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر یاتریوں پر گل پاشی کی گئی اور انہیں پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔ یاتریوں نے استقبال کے انتظامات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

سکھ یاتری تین روز تک ننکانہ صاحب میں قیام کریں گے، جہاں وہ اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کے ساتھ ساتھ بابا گرونانک دیو جی سے منسوب مقدس مقامات کی یاترا بھی کریں گے۔ اپنے قیام کے دوران یاتری ننکانہ صاحب کے سات مقدس گورودواروں کی زیارت کریں گے اور مختلف مذہبی تقریبات میں شرکت کریں گے۔

ضلعی انتظامیہ اور محکمہ اوقاف کی جانب سے سکھ یاتریوں کے لیے رہائش، لنگر، صفائی، طبی سہولیات اور سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یاتریوں کی سہولت کے لیے مختلف محکموں کے افسران اور عملہ بھی تعینات کیا گیا ہے تاکہ انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس موقع پر سکھ یاتریوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے ہمیشہ محبت، عزت اور احترام ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان کا دوسرا گھر ہے اور یہاں انہیں بہترین سکیورٹی اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ یاتریوں کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے اور دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کو اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے یہاں ضرور آنا چاہیے۔

سکھ یاتریوں کے مطابق وہ 23 جون کو گورودوارہ سچا سودا کی یاترا کے لیے روانہ ہوں گے، جہاں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد قافلہ گوردوارہ پنجہ صاحب روانہ ہو جائے گا۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق یاتریوں کے دورے کو کامیاب بنانے کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں اور سکیورٹی سمیت دیگر سہولیات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ مہمانوں کو پرامن اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے