یروشلم ( کیو این این ورلڈ) اسرائیل کی وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو کرپشن کیسز میں صدارتی معافی دینے کی سفارش نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ عبرانی میڈیا کے مطابق وزارتِ انصاف نے اپنی قانونی رائے مکمل کرنے کے بعد اسے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو ارسال کر دیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی درخواست قانونی معیار پر پورا نہیں اترتی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنی معافی کی درخواست میں نہ تو اپنے جرائم کا اعتراف کیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار کیا ہے، جو صدارتی معافی کے حصول کے لیے بنیادی شرط سمجھی جاتی ہے۔ وزارتِ انصاف کے مطابق جب تک ملزم اپنے کیے پر نادم نہ ہو اور جرم تسلیم نہ کرے، اسے سزا سے پہلے معافی دینا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔

دوسری جانب سفارتی حلقوں میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی صدر پر نیتن یاہو کو ریلیف دینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ تاہم صدر اسحاق ہرزوگ نے دوٹوک موقف اپنایا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے اور تمام فیصلہ میرٹ اور قانونی رائے کی روشنی میں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ نیتن یاہو پر 2019 سے رشوت ستانی، دھوکہ دہی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات ہیں جن پر گزشتہ پانچ برسوں سے تل ابیب کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ 2025 میں جب نیتن یاہو نے صدارتی معافی کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کیے تو اسے عوامی سطح پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، اور اب وزارتِ انصاف کی اس حالیہ رپورٹ نے ان کے سیاسی و قانونی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے