خانیوال (ویب ڈیسک) جہانیاں کے علاقے عطا ٹاؤن میں واقع ایک نجی کلینک پر مبینہ طبی غفلت اور غیر قانونی آپریشن کے نتیجے میں 30 سالہ خاتون ثانیہ کی ہلاکت کے بعد شہر میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر اور اس کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ لواحقین کا الزام ہے کہ خاتون کا آپریشن ڈاکٹر حافظ ناصر کی اہلیہ نے کیا جو کہ باقاعدہ مستند لیڈی ڈاکٹر نہیں تھیں، جس کے باعث آپریشن کے دوران پیچیدگیاں پیدا ہوئیں اور خاتون جانبر نہ ہو سکی۔ واقعے کے فوری بعد مشتعل لواحقین نے کلینک میں شدید توڑ پھوڑ کی، جبکہ حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے ڈاکٹر اور اس کی اہلیہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ڈپٹی کمشنر خانیوال کے خصوصی احکامات پر محکمہ صحت کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر حافظ ناصر کا نجی کلینک سیل کر دیا ہے، جبکہ پولیس نے مقتولہ ثانیہ کے لواحقین کی مدعیت میں ڈاکٹر اور اس کی اہلیہ کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ دوسری جانب مقتولہ کے ورثاء نے انصاف کی فراہمی کے لیے میت سڑک پر رکھ کر خانیوال روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا اور شدید احتجاج کیا، جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے عطائیوں اور غیر قانونی کلینک چلانے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کا سدباب ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے