عہدوں کی شادیاں، ون ڈش، کروڑوں کی سلامیاں
تحریر: جواد اکبر بھٹی (چراغِ آگہی)
پاکستان میں شادی اب محض ایک سماجی اور مذہبی فریضہ نہیں رہی، بلکہ طاقت، اختیار اور دولت کے امتزاج سے جنم لینے والا ایک منظم معاشی منصوبہ بنتی جا رہی ہے۔ خصوصاً اعلیٰ سیاستدان، سرکاری عہدوں پر فائز افسران، بزنس مین کلاس اور بااثر طبقات کی شادیوں نے ایک نیا رجحان متعارف کروایا ہے، جہاں خوشی کی تقریب کم اور ’’انویسٹمنٹ ریکوری ایونٹ‘‘ زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے اہم سرکاری افسران اور بزنس مین کے بچوں کی شادیوں پر چار سے پانچ ارب روپے تک سلامی اکٹھی ہونے کے قصے زبان زدِ عام ہیں۔ انہی قصوں نے سیاستدانوں اور افسران کو دولت سمیٹنے کا ایک نیا، محفوظ اور سماجی طور پر قابلِ قبول راستہ دکھا دیا ہے۔ اب شادی کی گیسٹ لسٹ رشتہ داری یا تعلق کی بنیاد پر نہیں، بلکہ مالی حیثیت اور ممکنہ فائدے کے ترازو میں تول کر تیار کی جاتی ہے۔
حال ہی میں ایک اور مثال سامنے آئی جب ایک اعلیٰ افسر کی شادی کی تیاریوں کے دوران گیسٹ لسٹ میں ہر ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک، ڈویلپر اور بڑے کاروباری نام شامل کیے جا رہے تھے، حتیٰ کہ وہ افراد بھی مدعو تھے جن سے کبھی بالمشافہ ملاقات تک نہیں ہوئی تھی اور محض رسمی ‘گڈ مارننگ’ کے پیغامات کا تعلق تھا۔ جب بیج میٹس کو نظر انداز کرنے پر سوال کیا گیا تو جواب ملا: ’’وہ تو بھوکے ہیں، کیا دیں گے؟‘‘ لاہور میں ایک پولیس افسر نے اپنی شادی میں ایک ریکارڈ یافتہ مجرم کو محض اس لیے مدعو کیا کہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ سلامی میں سونے کا سیٹ دیتا ہے۔ اسی طرح ایک اسسٹنٹ کمشنر کی شادی میں پراپرٹی ڈیلرز کو اگلی صفوں کے آرام دہ صوفوں پر بٹھایا گیا، جبکہ بیج میٹس پچھلی کرسیوں پر نظر آئے۔ یہ سب کچھ سلامی کی متوقع رقم کے تناسب سے طے ہوا۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہی افسران اپنی ذاتی شادیوں میں غریب اور متوسط طبقے کے رشتہ داروں اور دوستوں کو اس خوف سے دعوت نہیں دیتے کہ وہ ’’معمولی‘‘ سلامی دیں گے، مگر جب بات کسی اچھی پوسٹنگ کی ہو تو بہن، بھائی، کزن حتیٰ کہ بھانجے اور بھتیجی کی شادیوں پر بھی امیر افراد کو ہول سیل کے حساب سے دعوت نامے بانٹے جاتے ہیں۔ وزیراعظم آفس، ایوانِ صدر، وزیراعلیٰ ہاؤس، آئی جی اور چیف سیکرٹری آفس میں تعینات افسران کے اعزاز میں ہونے والی شادیوں میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کی سلامی، قیمتی جیولری، گاڑیاں، پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹر، بیرون ملک ہنی مون اور عمرہ پیکجز بطور تحفہ دیے جاتے ہیں۔ یہ ’’تحفے‘‘ درحقیقت ایک سرمایہ کاری ہوتے ہیں، جن کی واپسی کسی فائل، کسی اجازت، کسی ٹھیکے یا کسی رعایت کی صورت میں مانگی جاتی ہے۔ یوں شادی ایک ایسا ذریعہ بن چکی ہے جہاں خوشی کی آڑ میں سودے بازی ہوتی ہے۔ اگر کام ہو جائے تو مزید تحفے، اور اگر نہ ہو تو احسان فراموشی کے قصے ہر محفل میں سنائے جاتے ہیں۔
اس سب کے باوجود یہی افسران اخلاقیات، شفافیت اور گورننس کے لیکچر دیتے نظر آتے ہیں۔ منشی اذہان افسر تو بن جاتے ہیں، مگر اندر کی غربت ایسی حرکتیں کروا دیتی ہے کہ مہنگی پوشاک اور اعلیٰ عہدہ بھی اسے چھپا نہیں پاتا۔ اس کا دوسرا رخ بھی کم تشویشناک نہیں، اب کاروباری دنیا میں شادیاں بھی ’’ادارہ جاتی فائدے‘‘ کو سامنے رکھ کر کی جا رہی ہیں۔ کاروباری شخصیات پولیس سروس آف پاکستان (PSP)، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS)، ایف بی آر، کسٹمز اور دیگر طاقتور سروسز میں بہو یا داماد تلاش کرتی ہیں، کیونکہ یہ رشتے کاروبار کے لیے ’’سیکیورٹی کلیئرنس‘‘ سمجھے جاتے ہیں۔ نتیجتاً بیوروکریسی میں بہت سی شادیاں محض عہدے کی کشش پر کی جاتی ہیں، جو بعد میں ناکامی، ذہنی اذیت اور ٹوٹے خاندانوں کا سبب بنتی ہیں۔
رہا سہا تضاد ون ڈش قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ سیاستدان، افسر، قانون دان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے ایک ہی شادی میں موجود ہوتے ہیں، جہاں درجنوں ڈشز کے ذریعے قانون کی حیثیت اور طاقت کا فرق دکھایا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ قانون کیوں ٹوٹتا ہے، سوال یہ ہے کہ قانون توڑنے والوں کو قانون یاد دلانے والا کون ہے؟ جب اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ شادیوں کو کمائی کا ذریعہ اور قانون کو تماشا بنا دیں، تو عام آدمی کس سے انصاف کی امید رکھے؟ شادی خوشی، سادگی اور برکت کا نام ہے، کمائی، نمائش اور طاقت کے اظہار کا نہیں۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم شادی کو پھر سے وہی مقدس رشتہ بنا دیں، جو کبھی ہوا کرتا تھا۔