ڈیرہ غازی خان (انویسٹی گیشن سیل) واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) ڈیرہ غازی خان حکومت کی جانب سے 17 ارب روپے سے زائد کے خطیر فنڈز کی فراہمی کے باوجود شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے، جس کے باعث شہر بھر میں سیوریج کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اربوں روپے کی دستیابی کے باوجود شہر کے اندرونی اور مضافاتی علاقوں میں سیوریج کی بحالی یا بہتری کے حوالے سے کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی، جبکہ گندے پانی کی نکاسی نہ ہونے سے شہریوں کی روزمرہ زندگی اجیرن اور ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی رقم مختص ہونے کے باوجود زمینی حقائق تبدیل نہ ہونا واسا کی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے واسا ڈیرہ غازی خان کو مجموعی طور پر 17 ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے تھے، جن میں سے 12 ارب روپے خصوصی ’’سٹی پیکج‘‘ کے تحت جبکہ 10 ارب روپے سینی ٹیشن کے نظام کی بہتری اور بحالی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ تاہم تشویشناک امر یہ ہے کہ یہ تمام منصوبے اب تک صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود ہیں اور عملی طور پر واسا کی سرگرمیاں محض نالوں کی عارضی صفائی اور وینچنگ مشینوں کے محدود استعمال تک ہی سمٹی ہوئی ہیں۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ مجموعی سیوریج سسٹم کی اپ گریڈیشن اور نئی لائنوں کی تنصیب جیسے مستقل نکاسی آب کے منصوبوں پر کوئی کام نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے معمولی بارش کے بعد بھی پورا شہر جوہڑ کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔

مزید برآں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ شہر میں سینی ٹیشن کا زیادہ تر کام واسا کے بجائے میونسپل کارپوریشن ڈیرہ غازی خان کی مشینری اور عملے کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے، جس پر سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر تمام امور میونسپل کارپوریشن کے وسائل سے ہی چلانے تھے تو پھر واسا کے قیام کا کیا جواز تھا۔ شہریوں اور سماجی تنظیموں نے واسا کی کارکردگی اور فنڈز کے شفاف استعمال پر سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سٹی پیکج سمیت تمام منصوبوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور فنڈز کی خرد برد کی تحقیقات کر کے شہر میں سیوریج اور پانی کے مسائل کے مستقل حل کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے