گھوٹکی، (نامہ نگار: مشتاق علی لغاری) قصور کے رہائشی رفیق احمد عمر کے لحاظ سے بزرگ مگر حوصلے میں آج بھی جوان ہیں، جو ہر سال عشق و عقیدت کا انوکھا سفر طے کرتے ہوئے قصور سے سیہون شریف، لعل شہباز قلندر، لایوت لامکاں اور نورانی سرکار تک پیدل سفر کرتے ہیں۔ رواں سال قصور سے روانہ ہوئے انہیں آج بارہ دن ہو چکے ہیں اور وہ سندھ کے شہر ڈہرکی پہنچ چکے ہیں۔ رفیق احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ چالیس برسوں سے یہ روحانی سفر مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کے قدم کبھی تھکن کا شکار نہیں ہوئے۔ انہوں نے اپنے ماضی کا ایک دلچسپ واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ وہ 400 دن تک مسلسل سائیکل چلاتے ہوئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پہنچے تھے، جہاں انہوں نے حج کی سعادت حاصل کی، جو ان کی زندگی کا سب سے یادگار سفر تھا۔

سندھ کے عوام کی مہمان نوازی کے بارے میں رفیق احمد نے انتہائی جذباتی انداز میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے لوگوں نے راستے میں ہر جگہ انہیں بے پناہ عزت دی، کھانے پینے اور رہائش کا بہترین انتظام کیا، جس پر وہ ہمیشہ سندھ دھرتی کے لوگوں کے شکر گزار رہیں گے۔ اپنی ذاتی زندگی کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بزرگ مسافر نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے دردمندانہ اپیل کی کہ اب عمر کا بوجھ بڑھ چکا ہے اور جسمانی سکت جواب دے رہی ہے، لہٰذا انہیں مستقل سکون کے لیے پانچ مرلہ زمین کا ایک پلاٹ الاٹ کیا جائے تاکہ وہ اپنی بقیہ زندگی کسی چھت کے نیچے سکون سے گزار سکیں۔ ڈہرکی پہنچنے پر مقامی لوگوں نے بزرگ رفیق احمد کا شاندار استقبال کیا اور ان کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے