کراکس (کیو این این ورلڈ) وینزویلا کی نائب صدر اور وزیر برائے تیل ڈیلسی روڈریگز نے ملک کی عبوری صدر کے طور پر باضابطہ حلف اٹھا لیا ہے۔ یہ اہم سیاسی تبدیلی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب معزول صدر نکولس مادورو کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کی گئی ایک ڈرامائی عسکری کارروائی کے بعد اقتدار سے ہٹا کر امریکا منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ منشیات کے الزامات کے تحت نیویارک کی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔ 56 سالہ ڈیلسی روڈریگز سے حلف ان کے بھائی اور قومی اسمبلی کے سربراہ جارج روڈریگز نے لیا۔ ڈیلسی روڈریگز کو حکمران جماعت میں ایک بااثر اور نجی شعبے سے قریبی تعلقات رکھنے والی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے دوران گزشتہ برس مئی میں منتخب ہونے والے 283 ارکان نے بھی اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا، تاہم نوبل انعام یافتہ رہنما ماریا کورینا ماچاڈو سمیت حزبِ اختلاف کے ایک بڑے حصے نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ ایوان میں واحد غیر حاضر رکن خاتونِ اول سیلیا فلورس تھیں جو اس وقت امریکی حکام کی حراست میں ہیں۔ اس موقع پر معزول صدر کے بیٹے اور رکنِ پارلیمنٹ نکولس مادورو گوریرا نے جذباتی خطاب کرتے ہوئے عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے لیے اپنی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے اور وہ جلد ہی اپنے والد سے وطن میں ملاقات کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے