واشنگٹن/کراکس: (کیو این این ورلڈ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر تابڑ توڑ فضائی حملوں اور ایک منظم فوجی آپریشن کے بعد صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد دونوں کو وینزویلا سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ’ پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ آپریشن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کیا گیا جس کا مقصد وینزویلا کی قیادت کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق کراکس اور ملک کی دیگر اہم ریاستوں میں ہونے والے ان فضائی حملوں میں وزارتِ دفاع اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دارالحکومت کی فضاؤں میں امریکی فوجی ہیلی کاپٹرز کی پروازوں کے بعد زمینی فوج نے صدر اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ مادورو اب امریکی تحویل میں ہیں اور ان کی گرفتاری کے بعد اب وینزویلا میں مزید کسی بڑی فوجی کارروائی کی ضرورت باقی نہیں رہی ہے۔

امریکی اٹارنی جنرل پیم بانڈی نے اس حوالے سے باقاعدہ چارج شیٹ جاری کر دی ہے جس کے تحت نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ پر نارکو ٹیررازم (منشیات دہشت گردی)، کوکین اسمگلنگ، مشین گنز اور تباہ کن آلات رکھنے سمیت امریکہ کے خلاف سازش کرنے جیسے سنگین فوجداری الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ مقدمات نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ میں چلائے جائیں گے جہاں انہیں امریکی عدالتوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ان الزامات کی بنیاد 2020 میں تیار کی گئی وہ تحقیقات ہیں جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ مادورو "کارٹل آف دی سنز” جیسے منشیات کے نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر امریکہ میں منشیات سپلائی کر رہے تھے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ اور سینیٹر مائیک لی نے بھی تصدیق کی ہے کہ مادورو کو امریکی خصوصی فورسز نے گرفتار کیا ہے اور انہیں جلد ہی باقاعدہ ٹرائل کے لیے امریکہ منتقل کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب اس امریکی کارروائی پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں روس، کیوبا اور کولمبیا نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کیوبا کے صدر نے اسے ایک "مجرمانہ حملہ” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ روس کا موقف ہے کہ کسی بھی خود مختار ملک کی قیادت کو اس طرح گرفتار کرنا عالمی اصولوں کے منافی ہے۔ وینزویلا کے دارالحکومت میں شدید دھماکوں اور امریکی عسکری مداخلت نے خطے میں جنگ کے خدشات کو جنم دے دیا ہے، جبکہ امریکی صدر آج رات ایک اہم پریس کانفرنس میں اس آپریشن کی مزید تفصیلات اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے