واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر تہران نے اپنے جوہری پروگرام یا تعمیرات کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی تو اس پر قیامت برپا کر دی جائے گی۔ فلوریڈا میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے اہم ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق ایران دوبارہ اپنی جوہری تنصیبات تعمیر کرنے کی تگ و دو کر رہا ہے، تاہم اگر ایسا ہوا تو امریکہ فوری اور بھرپور فوجی حملوں کی حمایت کرے گا اور ان تنصیبات کو تباہ کرنا ناگزیر ہوگا۔ امریکی صدر نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایران کو اب تک کسی منطقی معاہدے پر پہنچ جانا چاہیے تھا لیکن تاحال ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو کے ساتھ پانچ کلیدی امور پر تفصیلی مشاورت ہو رہی ہے اور امریکہ ہر صورت میں اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ غزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کا جلد آغاز متوقع ہے جس کے بعد وہاں تعمیرِ نو کا عمل بھی شروع کر دیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ پر یوکرینی حملے کی خبر پر شدید دکھ اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں امن کے قیام کے لیے ابھی کئی پیچیدہ مسائل رکاوٹ ہیں۔ دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے امریکہ سے طلب کی گئی 30 سے 50 سالہ طویل المدتی سیکیورٹی ضمانتوں کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔