پاکستان کی ایران امریکا کے درمیان ثالثی سے متعلق سوشل میڈیا پر زیرگردش جھوٹی خبروں کی تردید

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی کامیاب ثالثی اور اسلام آباد میں وفود کی میزبانی سے متعلق سوشل میڈیا پر زیر گردش تمام خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ رپورٹس بے بنیاد، قیاس آرائیوں پر مبنی اور محض تصور کی پیداوار ہیں، اور انہیں سرکاری ذرائع سے منسوب کرنا قطعی غلط ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ خطے میں کشیدگی اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے متعلق رپورٹس کو نوٹ کیا گیا، جن میں نام نہاد سرکاری ذرائع کا حوالہ دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت خارجہ میں ہونے والی بریفنگ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ایسے مواد کا حوالہ دیا گیا جو نہ زیر بحث آئے اور نہ ہی ان کی طرف اشارہ کیا گیا۔ دفتر خارجہ نے ان من گھڑت خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔

طاہر اندرابی نے علاقائی حساسیت اور نازک وقت میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے میڈیا پلیٹ فارمز سے اپیل کی کہ وہ مکمل تحقیق سے کام لیں، قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور درست اور بروقت معلومات کے لیے صرف سرکاری بیانات پر انحصار کریں۔

یاد رہے کہ پچھلے چند دنوں (خاص طور پر 2-3 اپریل 2026) سے سوشل میڈیا (خاص طور پر X، فیس بک اور واٹس ایپ) پر یہ دعوے زور و شور سے پھیل رہے تھے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کامیاب ثالثی شروع کر دی ہے اور جلد اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے۔ کچھ پوسٹس میں یہاں تک دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان "امریکا-ایران جنگ ختم کرنے” میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

جبکہ اس کے برعکس پچھلے دنوں یہ ضرور کہا گیا تھا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان سہولت کاری (facilitation) کے لیے تیار ہے اور امید رکھتا ہے کہ مذاکرات کی میزبانی کر سکے گا، لیکن یہ صرف امید اور آمادگی کا اظہار تھا، کوئی حتمی یا کامیاب ثالثی کا دعویٰ نہیں تھا۔ سوشل میڈیا نے اس بیان کو بڑھا چڑھا کر اور غلط رنگ دے کر پیش کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے