واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) وائٹ ہاؤس نے 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے کے حوالے سے ایک نیا اور تہلکہ خیز بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد گرفتار ہونے والے افراد کے ساتھ سخت ناانصافی کی گئی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق احتجاج کرنے والے شہریوں کو محض سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں سیاسی انتقام کا حصہ تھیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت سکیورٹی انتظامات میں سنگین کوتاہی برتی گئی جس کی وجہ سے مظاہرین کو روکنے میں ناکامی ہوئی، اور وائٹ ہاؤس نے اس تمام تر ناکامی کا ذمہ دار براہِ راست اس وقت کی اسپیکر نینسی پلوسی کو قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ 6 جنوری 2021 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل کی عمارت پر دھاوا بولا تھا، جس کے بعد سابق صدر ٹرمپ پر عوام کو اشتعال دلانے اور ان کے ساتھیوں پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سمیت امن و امان کی فضا خراب کرنے کے الزامات کے تحت طویل تفتیش اور قانونی کارروائیاں کی گئی تھیں۔ تاہم، وائٹ ہاؤس کے حالیہ بیان نے اس پورے معاملے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے، جس میں سکیورٹی کی ناکامی کا ملبہ سابق اسپیکر پر ڈالتے ہوئے گرفتار شدگان کو سیاسی قیدیوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس بیان کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور ڈیموکریٹس کی جانب سے سخت ردِعمل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔