اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/نامہ نگارحبیب خان) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اوچ شریف اور گردونواح میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی رقوم میں خورد برد اور غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف بڑا ایکشن لیتے ہوئے متعدد ریٹیلرز کے مراکز پر چھاپے مارے ہیں۔ اس فیصلہ کن کارروائی کے دوران درجنوں مشتبہ بائیومیٹرک ڈیوائسز، ریکارڈ اور نقد رقوم قبضے میں لے لی گئی ہیں، جبکہ کئی ریٹیلرز اور ان کے اہلکاروں کو حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کو مستحق خواتین کی جانب سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ ریٹیلرز نہ صرف امدادی رقم سے کٹوتیاں کر رہے ہیں بلکہ جعلی بائیومیٹرک اور خواتین کو نااہلی کا جھانسا دے کر ان کی قسطیں ہڑپ کر رہے ہیں۔ ان شکایات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف آئی اے نے خفیہ نگرانی اور ٹھوس شواہد اکٹھے کرنے کے بعد مختلف ٹیموں کی صورت میں بیک وقت ان مراکز پر دھاوا بولا۔
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بعض ریٹیلرز سرکاری قواعد کے برخلاف اضافی ڈیوائسز استعمال کر رہے تھے اور خواتین کے شناختی کارڈز کا ڈیٹا غیر قانونی طور پر محفوظ کیا گیا تھا۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمل نہ صرف قومی ڈیٹا کے تحفظ کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ غریب عوام کے معاشی استحصال کے مترادف بھی ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد سے تفتیش کے بعد مزید گرفتاریوں اور مقدمات کے اندراج کا بھی قوی امکان ہے۔ اس نیٹ ورک میں شامل دیگر عناصر، سہولت کاروں اور ممکنہ سرکاری اہلکاروں کے کردار کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس فلاحی منصوبے میں کرپشن کرنے والے پورے گروہ کا صفایا کیا جا سکے۔
دوسری جانب علاقے کے عوامی و سماجی حلقوں نے ایف آئی اے کی اس بروقت کارروائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف ملوث ریٹیلرز کو نشانِ عبرت بنایا جائے بلکہ لوٹی گئی رقوم مستحق خواتین کو واپس دلائی جائیں۔ انہوں نے مستقبل میں ایسے حفاظتی اقدامات کرنے پر زور دیا ہے جن سے اس قومی فلاحی پروگرام کو بدعنوان عناصر سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔