اوچ شریف سے نامہ نگار حبیب خان کی رپورٹ کے مطابق دریائے چناب اور دریائے ستلج میں حالیہ سیلابی ریلوں کے گزرنے کے بعد اوچ شریف اور گردونواح میں انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس میں سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال ترنڈ بشارت سے سرور آباد تک تقریباً 5 کلو میٹر طویل کارپٹ روڈ کی ہے جہاں سڑک کے دونوں اطراف مٹی بہہ جانے سے اس کی بنیادیں انتہائی کمزور ہو چکی ہیں۔ سیلابی پانی کے تیز بہاؤ نے سڑک کے کناروں پر اس قدر شدید کٹاؤ پیدا کر دیا ہے کہ متعدد مقامات پر کارپٹ روڈ نیچے سے بالکل خالی ہو چکی ہے اور گہرے شگاف پڑنے کے باعث کسی بھی وقت سڑک کے بیٹھ جانے یا بڑے حادثے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، بظاہر ہموار دکھائی دینے والی یہ سڑک اب بھاری ٹریفک اور روزمرہ آمد و رفت کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہو چکی ہے جو کسی بھی وقت کسی بڑے انسانی المیے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

سیلابی صورتحال ختم ہوئے عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال محکمہ ہائی ویز کی جانب سے اس اہم شاہراہ کا کوئی تکنیکی معائنہ کیا گیا اور نہ ہی مرمتی کام کا آغاز ہو سکا ہے، حتیٰ کہ خطرناک حصوں پر مسافروں کی رہنمائی کے لیے کوئی حفاظتی سائن بورڈ تک نصب نہیں کیے گئے جس سے عوامی تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات جنم لے رہے ہیں۔ یہ سڑک نہ صرف اوچ شریف بلکہ درجنوں دیہی آبادیوں کے لیے رابطے کا واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے طلبہ، مریض اور کسان اپنی زرعی پیداوار منڈیوں تک پہنچاتے ہیں، اگر اسے بروقت محفوظ نہ بنایا گیا تو کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ یہ روڈ مکمل طور پر ناکارہ ہو جائے گی جس سے قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان پہنچے گا۔ علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ہائی ویز کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر سڑک کا سروے کر کے حفاظتی پشتے تعمیر کیے جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے