واشنگٹن ( کیو این این ورلڈ) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایران کے حملوں کے بعد اپنی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے امریکہ اور اس کے عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اماراتی سفارت کار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک ایسی قرارداد کے لیے سرگرم ہیں جس کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ کو واگزار کرانے کے لیے عسکری کارروائی کی قانونی اجازت حاصل کی جا سکے۔
اماراتی حکام نے امریکہ، یورپ اور ایشیا کی بڑی عسکری طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک مشترکہ اتحاد قائم کریں جو طاقت کے استعمال سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکے۔ یو اے ای کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امارات نے اس سلسلے میں اپنی عسکری صلاحیتوں کا جائزہ بھی لے لیا ہے، جس میں سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی اور دیگر معاون خدمات شامل ہیں۔ امارات کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ امریکہ کو ان جزائر بشمول ‘ابو موسیٰ’ پر قبضہ کرنا چاہیے جو گزشتہ نصف صدی سے ایران کے کنٹرول میں ہیں مگر امارات ان پر دعویٰ کرتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک بھی اب ایرانی حکومت کے خلاف سخت ترین مؤقف اختیار کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ کشیدگی اس وقت تک جاری رہے جب تک ایرانی حکومت کو مکمل کمزور یا ختم نہ کر دیا جائے۔ بحرین، جہاں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا ہیڈ کوارٹر ہے، اس سلسلے میں قرارداد تیار کر رہا ہے جس پر جمعرات کو ووٹنگ متوقع ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یو اے ای کا یہ نیا جارحانہ انداز اس کی سابقہ ‘ثالثی کی حکمت عملی’ میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ اب امارات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف کے قریب آ رہا ہے جس میں اتحادیوں سے جنگ کا زیادہ بوجھ اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ روس اور چین کی جانب سے اس قرارداد کو ویٹو کیے جانے کا خدشہ ہے، تاہم اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر بھی آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی کسی بھی کوشش میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔