ابوظہبی (کیو این این ورلڈ) متحدہ عرب امارات میں نیا سول قانون نافذ کر دیا گیا ہے جس کے تحت 18 سال کی عمر کو قانونی بلوغت قرار دے دیا گیا ہے، اب نوجوان اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر تمام مالی اور قانونی فیصلے خود کرنے کے اہل ہوں گے۔ حکام کے مطابق نئے قانون کے تحت 18 سال کے افراد کسی بھی قسم کے معاہدے کرنے، بینکوں سے قرض لینے اور جائیداد کی خرید و فروخت کرنے کے مکمل مجاز ہوں گے۔

مزید برآں، نوجوانوں کو اپنا کاروبار رجسٹر کرنے کی بھی اجازت ہوگی جبکہ 15 سال کی عمر کے افراد عدالتی اجازت حاصل کر کے اپنے اثاثے خود سنبھال سکیں گے۔ اس قانون کا مقصد نوجوان نسل کو بااختیار بنانا اور انہیں ملک کی معاشی سرگرمیوں میں آزادانہ طور پر شامل ہونے کے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی اور کاروبار سے متعلق فیصلے خود کر سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے