واشنگٹن (کیو انی این ورلڈ) وینزویلا میں صدر نکولس مادورو کے خلاف امریکی کارروائی کے بعد لاطینی امریکا کے دیگر ممالک میں بھی شدید بے چینی پھیل گئی ہے اور خطے میں مزید فوجی مداخلت کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو ایک غیر معمولی اور سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اب محتاط رہنا چاہیے کیونکہ کولمبیا سے بڑے پیمانے پر منشیات تیار ہو کر امریکا پہنچ رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ وہ کولمبیا میں منشیات تیار کرنے والی لیبارٹریوں پر براہِ راست حملوں کے امکان کو رد نہیں کریں گے، جسے بین الاقوامی سطح پر کسی دوسرے ملک کی خودمختاری میں مداخلت کا واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ان دھمکیوں کے ردعمل میں کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے امریکی کارروائی کو لاطینی امریکا کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات پورے خطے میں شدید انسانی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ صدر پیٹرو نے ماضی میں بھی کیریبین خطے میں امریکی فوجی تعیناتیوں پر کڑی تنقید کی ہے، جنہیں امریکی حکومت منشیات کے خلاف آپریشن کا نام دیتی رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاطینی امریکا کے بارے میں اپنی پالیسی کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ مغربی نصف کرے میں امریکی برتری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور امریکا اپنے گرد و نواح میں صرف مستحکم اور اچھے ہمسایہ ممالک دیکھنا چاہتا ہے، جبکہ انہوں نے وینزویلا کے توانائی کے ذخائر کو بھی امریکی مفادات کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی مغرب نواز اپوزیشن لیڈر اور نوبل انعام یافتہ ماریا کورینا کی مقبولیت پر بھی سوالات اٹھائے، جنہوں نے امریکا اور اسرائیل کو اپنے ہی ملک پر حملے کی دعوت دی تھی، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ملک کی قیادت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کیوبا کو خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی اگلی توجہ ہوانا پر ہو سکتی ہے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے میکسیکو کی قیادت کے حوالے سے بھی سخت لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ اگرچہ صدر کلاڈیا شین بام ایک اچھی خاتون ہیں، مگر میکسیکو پر منشیات کے کارٹلز کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میکسیکو کو کارٹلز کے خلاف امریکی مدد کی کئی بار پیشکش کی گئی جسے مسترد کر دیا گیا، یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل ایران میں بھی مداخلت کا عندیہ دے چکے ہیں جس سے عالمی منظر نامے پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔