اسلامی اور عرب ممالک کی جانب سے شدید اعتراضات کے بعد سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو غزہ امن کونسل سے نکال دیا گیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے جنگ بندی منصوبے میں ٹونی بلیئر کا نام شامل کیا گیا تھا، تاہم مسلم ممالک کی مخالفت کے باعث انہیں فہرست سے خارج کر دیا گیا۔
رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ بلیئر مستقبل میں کسی نہ کسی صورت غزہ سے متعلق معاملات میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں غزہ کے لیے امن منصوبہ پیش کرتے ہوئے ٹونی بلیئر کو امن کونسل کے لیے تجویز کیا تھا۔
ٹونی بلیئر بطور برطانوی وزیراعظم 2003 میں امریکا کے ساتھ کھل کر کھڑے ہوئے اور عراق پر حملے کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے برطانوی فوج کو بھی امریکی جنگ کا حصہ بنایا تھا۔ یہ جنگ ان دعووں کی بنیاد پر شروع کی گئی کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں، تاہم بعد میں یہ دعوے غلط ثابت ہوئے۔