دبئی (ویب ڈیسک) عالمی کراؤڈ سورسڈ ڈیٹا پلیٹ فارم نمبیو کی 2025 مڈ ایئر رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایک بار پھر دنیا کا سب سے محفوظ ملک قرار پایا ہے، جس کا سیفٹی انڈیکس سکور 85.2 ہے۔ یہ درجہ بندی عوامی تاثرات، جرائم کی شرح، دن رات چلنے پھرنے کی سیکیورٹی اور پولیس کی کارکردگی جیسے عوامل پر مبنی ہے۔

رپورٹ میں یو اے ای کے بعد انڈورا (84.8)، قطر (84.6)، تائیوان (83.0) اور مکاؤ (چین) (81.8) سرفہرست محفوظ ممالک میں شامل ہیں۔ عمان 81.4 سکور کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے، جبکہ ہانگ کانگ، جاپان، سنگاپور اور چین بھی ٹاپ 10 میں جگہ بنا چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ممالک کم جرائم کی شرح، مضبوط قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیاسی استحکام اور جدید نگرانی کے نظام کی بدولت سرفہرست ہیں۔ خلیجی ممالک میں سخت قوانین اور معاشی خوشحالی سیفٹی کو مزید بڑھاتی ہے۔

دوسری طرف، رپورٹ نے دنیا کے غیر محفوظ ترین ممالک کی فہرست بھی جاری کی ہے، جن میں ہیٹی (19.0) سب سے نچلے درجے پر ہے، اس کے بعد پاپوا نیو گنی (19.3)، وینیزویلا (19.5)، افغانستان (24.8) اور جنوبی افریقہ (25.4) شامل ہیں۔ ہونڈوراس، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، شام، جمیکا اور پیرو بھی کم سکور والے ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔

یہ ممالک اندرونی تنازعات، اعلیٰ جرائم کی شرح، گروہی تشدد، معاشی بحران اور کمزور سیکیورٹی اداروں کا شکار ہیں۔

جنوبی ایشیا کے تناظر میں پاکستان کا سیفٹی سکور 57.6 ہے، جو درمیانی سطح پر ہے اور علاقائی طور پر نسبتاً بہتر پوزیشن دکھاتا ہے۔ بھارت کا سکور 55.8 ہے۔ تاہم، ترقی یافتہ ممالک امریکہ (50.8) اور برطانیہ (51.6) توقعات کے برخلاف درمیانی یا کم درجے پر ہیں، جس کی وجہ شہری جرائم میں اضافہ، گن وائلنس اور پولیس پر عدم اعتماد بتایا جا رہا ہے۔

نمبیو کے سیفٹی انڈیکس میں فرق کی اہم وجوہات میں پولیس کی مضبوطی، سیاسی اور معاشی استحکام، سماجی ہم آہنگی اور ہتھیاروں کی دستیابی شامل ہیں۔ یہ انڈیکس مسافروں، تارکین وطن اور کاروباری افراد کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیفٹی نہ صرف سرکاری اعداد و شمار بلکہ عوام کے حقیقی تجربات پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے یہ درجہ بندی حقیقی صورتحال کی بہتر عکاسی کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے