نیویارک (کیو این این ورلڈ) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے مسئلہ فلسطین کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری بے یقینی اور عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ، جبری نقل مکانی اور انسانی تباہی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔ سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے کے تمام پہلوؤں پر اقوام متحدہ کے فعال کردار کا خیر مقدم کرتا ہے، تاہم فلسطینی عوام کئی دہائیوں سے جس غیر قانونی قبضے اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں، اس کا خاتمہ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ عاصم افتخار نے غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاں نہتے شہریوں، اقوام متحدہ کی تنصیبات اور امدادی ادارے ’یو این آر ڈبلیو اے‘ (UNRWA) کو دانستہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستانی مندوب نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں مسلسل حملوں اور امدادی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت طے شدہ امن منصوبے پر فی الفور عملدرآمد کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور غزہ کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر نو کے لیے واضح پیش رفت کرنی چاہیے۔ پاکستان کا دوٹوک مؤقف ہے کہ خطے میں امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیل سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ شام اور لبنان میں اپنی غیر قانونی فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اسرائیل کے ایسے جارحانہ اقدامات پورے خطے کو ایک بڑے اور خطرناک عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا بورڈ آف پیس اور سلامتی کونسل اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ کئی دہائیوں سے جاری اس انسانی المیے کا مستقل اور منصفانہ حل نکالا جا سکے، کیونکہ فلسطین کا حل طلب مسئلہ ہی مشرقِ وسطیٰ کے تمام بحرانوں کی اصل بنیاد ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے